پاکستان کی توانائی اور معاشی حکمتِ عملی میں ایک نمایاں پیش رفت اس وقت دیکھنے میں آ رہی ہے جب روس کے ساتھ تعاون کو ایک نئے اور وسیع دائرے میں پھیلانے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ تیل، گیس، معدنیات اور بھاری صنعت جیسے شعبے اس شراکت داری کا مرکزی حصہ بنتے جا رہے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات کو متنوع بنانا چاہتا ہے بلکہ بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کا خواہاں بھی ہے۔
حالیہ دنوں میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اس سلسلے میں اہم اشارے دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تیل کے شعبے میں ممکنہ تعاون پر سنجیدہ مشاورت جاری ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی توانائی سے متعلق وزارتوں کے درمیان رابطے ہو رہے ہیں اور مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ توانائی، خاص طور پر تیل اور گیس کے میدان میں روس کو طویل تجربہ اور مہارت حاصل ہے، اور پاکستان اس مہارت سے فائدہ اٹھانے کے لیے کسی بھی مؤثر معاہدے کا خیرمقدم کرے گا۔ ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام آباد روس کے ساتھ تعلقات کو محض تجارتی حد تک محدود رکھنے کے بجائے ایک جامع اور طویل المدتی شراکت داری میں بدلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ روابط محض حالیہ گفتگو تک محدود نہیں بلکہ گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے مختلف شعبوں میں تعاون بتدریج بڑھتا رہا ہے۔ ان میں پاکستان کے اندر ایک ریفائنری کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے، تیل اور گیس کی تلاش میں مشترکہ سرمایہ کاری، پیداوار میں تعاون اور ریفائننگ کے شعبے میں شراکت جیسے امکانات شامل ہیں۔ پاکستان نے 2023 میں روسی خام تیل کی درآمد کا آغاز کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا، درآمدی لاگت میں کمی لانا اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے بہتر طور پر نمٹنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک پاکستان میں ایک نئے اسٹیل پلانٹ کے قیام کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں، جو صنعتی ترقی اور مقامی پیداوار کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں یہ پیش رفت اکتوبر میں اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقد ہونے والے 14ویں بین الاقوامی گیس فورم 2025 میں پاکستان کے وفد کی قیادت کی۔ اس دورے کا مقصد روس کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانا اور توانائی و معدنیات کے شعبوں میں مشترکہ مواقع تلاش کرنا تھا۔ فورم کے دوران علی پرویز ملک نے عالمی توانائی کے ماہرین اور اعلیٰ حکام کے سامنے پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں، سرمایہ کار دوست اقدامات اور توانائی کے مستقبل کے حوالے سے وژن کو اجاگر کیا۔
اس عالمی فورم کے مرکزی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں شفافیت، تنوع اور پائیداری کو ترجیح دے رہا ہے تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے ایسے اقدامات متعارف کرائے ہیں جو سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، خطرات کو کم کرنے اور عالمی معیار کے مطابق پالیسی فریم ورک فراہم کرنے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔ اس اجلاس میں روس اور ترکی سمیت مختلف ممالک کے توانائی وزراء اور عالمی اداروں کے سربراہان شریک تھے، جہاں بدلتی جغرافیائی صورتِ حال، توانائی کی منتقلی اور مستقبل کے عالمی رجحانات پر تفصیلی بحث ہوئی۔
فورم کے موقع پر علی پرویز ملک نے روسی توانائی ادارے گازپروم کے چیئرمین الیکسی ملر سے بھی تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان کی آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور گازپروم کے درمیان تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، خاص طور پر تیل و گیس کی تلاش، مشترکہ منصوبوں اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے شعبوں میں۔ اس طرح کے تعاون سے پاکستان کی مقامی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ اور جدید تکنیکی مہارت کی منتقلی ممکن ہو سکتی ہے۔
اسی دورے کے دوران وفاقی وزیر نے روسی جیولوجیکل سروے ادارے روس جیو اور توانائی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی کمپنی نیڈرا ڈیجیٹل کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کے توانائی اور معدنی شعبوں میں روسی سرمایہ کاری کے امکانات، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ڈیجیٹل حل کے استعمال پر تبادلہ خیال ہوا، جن کے ذریعے تلاش اور پیداوار کے عمل کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
علاقائی تعاون بھی ان ملاقاتوں کا ایک اہم پہلو رہا۔ ترکی کے وزیرِ توانائی اور قدرتی وسائل الب ارسلان بیرقدار کے ساتھ علیحدہ ملاقات میں پاکستان، روس اور ترکی کے درمیان ممکنہ سہ فریقی تعاون پر بات ہوئی۔ اس میں توانائی کی ترسیل، ایل این جی کے منصوبے اور معدنی ترقی جیسے شعبے شامل تھے۔ علی پرویز ملک نے پاکستان میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو آئندہ پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت دی اور اسے پاکستان کے سنجیدہ اور کھلے رویے کی علامت قرار دیا۔
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل گیس فورم عالمی سطح پر توانائی کے شعبے کا ایک بڑا اجتماع سمجھا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر سے ہزاروں ماہرین، پالیسی ساز اور صنعت کے رہنما شریک ہوتے ہیں۔ اس فورم میں قدرتی گیس کی ترقی، نئی تلاش کی ٹیکنالوجیز، ڈیجیٹل تبدیلی اور پائیدار توانائی نظام جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے، اور پاکستان نے اس پلیٹ فارم کو اپنے وژن کے اظہار کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا۔
ان تمام سرگرمیوں کا تسلسل ستمبر میں اس وقت مزید واضح ہوا جب وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان بیجنگ میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے توانائی، تجارت اور علاقائی روابط میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ خاص طور پر روس، وسطی ایشیا، افغانستان اور پاکستان کو ملانے والے تجارتی راہداری منصوبے پر بات ہوئی، جسے خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ روسی خام تیل کی درآمد میں اضافے سے دوطرفہ تجارت کے حجم میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ صدر پیوٹن نے پاکستان کو ایشیا میں ایک قابلِ اعتماد اور قدیمی شراکت دار قرار دیا اور مستقبل میں اقتصادی تعاون بڑھنے کی امید ظاہر کی۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک کی یہ سرگرمیاں سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2025 میں ان کی شرکت کا تسلسل بھی تھیں، جہاں انہوں نے پاکستان کی مائننگ فریم ورک پالیسی متعارف کرائی اور ریکوڈک منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی کی تکمیل کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس تانبہ، سونا، لیتھیم اور نایاب معدنی عناصر سمیت وسیع معدنی وسائل موجود ہیں، جو شفاف قوانین اور واضح پالیسیوں کے تحت پائیدار ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
یہ تمام پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو محض رسمی سطح سے آگے بڑھا کر ایک عملی اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ توانائی، صنعت اور علاقائی تعاون کے شعبوں میں یہ روابط اگر عملی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو نہ صرف پاکستان کی معیشت کو سہارا مل سکتا ہے بلکہ خطے میں اس کا کردار بھی مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
