خبر رساں ادارے روئٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر آئندہ چند ہفتوں میں واشنگٹن کا دورہ کریں گے جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ یہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تیسری ملاقات ہو گی، جس سے اس دورے کی غیر معمولی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا مرکزی ایجنڈا غزہ سے متعلق مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس ہو گا۔
روئٹرز کے مطابق امریکہ، پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس کے لیے فوجی دستے فراہم کرے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے اس فورس میں شمولیت اختیار کی تو یہ فیصلہ ملک کے اندر سیاسی، مذہبی اور عوامی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دے سکتا ہے، کیونکہ غزہ کا معاملہ پاکستانی عوام کے لیے جذباتی اہمیت رکھتا ہے۔
واشنگٹن کے منصوبے کے مطابق آئندہ سال کے آغاز تک تقریباً پانچ ہزار فوجی غزہ میں تعینات کیے جائیں گے، جبکہ 2026 کے اختتام تک یہ تعداد بڑھا کر دس ہزار تک لے جانے کی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فورس ان علاقوں میں تعینات کی جائے گی جو اسرائیلی کنٹرول میں ہوں گے، تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کتنے ممالک اس مشن میں عملی طور پر شرکت پر آمادہ ہوئے ہیں۔
پاکستانی حکومت نے تاحال غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کی سرکاری منظوری کا اعلان نہیں کیا۔ تاہم گزشتہ ماہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عندیہ دیا تھا کہ پاکستان امن برقرار رکھنے کے لیے فورسز بھیجنے کے امکان پر غور کر سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا پاکستان کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ فلسطینیوں اور ان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا معاملہ ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عاصم منیر سے مشاورت کے بعد کہا ہے کہ پاکستان تعاون کے لیے تیار ہے، مگر اصل سوال فورس کے مینڈیٹ، مشن کی نوعیت اور آپریٹنگ شرائط سے متعلق ہے۔ جب تک یہ نکات واضح نہیں ہوتے، پاکستان کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچ سکتا۔ مبصرین کے مطابق یہی نکات آئندہ واشنگٹن ملاقات کا بنیادی محور ہوں گے۔
جنرل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کے درمیان تعلقات حالیہ مہینوں میں خاصے مضبوط ہوئے ہیں۔ گزشتہ جون میں جنرل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں غیر معمولی طور پر سویلین قیادت کے بغیر مدعو کیا گیا، جو امریکہ اور پاکستان کے عسکری تعلقات میں ایک غیر روایتی پیش رفت سمجھی گئی۔ ستمبر میں دوسری ملاقات وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی میں ہوئی، جب کہ اکتوبر میں شرم الشیخ کی سربراہی کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے جنرل عاصم منیر کو اپنے پسندیدہ مشیروں میں شامل قرار دیا۔
امریکی صدر نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے مستقبل کے حوالے سے انہیں امید ہے کہ مزید ممالک شامل ہو رہے ہیں اور وہ ان ممالک سے اتنی ہی تعداد میں فوجی فراہم کرنے کی توقع رکھتے ہیں جتنی طلب کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ کی خواہش ہے کہ 20 نکات پر مشتمل امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی طرف پیش رفت کی جائے، حالانکہ مبصرین کے مطابق پہلے مرحلے کی تکمیل بھی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیل پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ حماس کے پاس موجود آخری یرغمالی کی لاش کی حوالگی سے قبل ہی اس منصوبے پر عملدرآمد شروع کرے۔ اسی تناظر میں توقع کی جا رہی ہے کہ رواں ماہ کے آخر میں وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دورے کے دوران غزہ، لبنان اور شام کی صورتحال سرفہرست موضوعات ہوں گے۔
یوں جنرل عاصم منیر کا متوقع دورۂ واشنگٹن محض ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک نازک عسکری اور سیاسی موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں ایک طرف عالمی دباؤ ہے اور دوسری جانب اندرونی ردعمل کا خدشہ ہے۔
