گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اسلام آباد یا پشاور بند کرنے جیسے دباؤ کے حربوں سے بانی پی ٹی آئی کی سزا ختم نہیں ہوگی اور اڈیالہ جیل میں موجود ہر قیدی کو آئین و قانون کے مطابق اپنی سزا پوری کر کے ہی رہا ہونا پڑے گا۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی بالادستی ریاست کی بنیاد ہے اور کسی فرد یا جماعت کے لیے اس سے انحراف ممکن نہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت اڈیالہ جیل میں وی وی آئی پی قیدی کے طور پر رکھے گئے ہیں اور وہ ذاتی طور پر نہیں چاہتے کہ ان کے ساتھ کوئی غیر انسانی یا غیر قانونی رویہ اختیار کیا جائے۔ تاہم انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ جیلوں میں امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے اور قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، تاکہ دیگر قیدیوں کے حقوق بھی متاثر نہ ہوں۔
گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ صوبہ اس وقت سنگین گورننس مسائل سے دوچار ہے، جن میں امن و امان، انتظامی کمزوریاں اور عوامی خدمات کی فراہمی شامل ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اڈیالہ جیل کے باہر سیاسی سرگرمیوں کے بجائے اپنے صوبے میں موجود رہ کر عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صوبائی حکومت نے ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون نہ کیا اور آئینی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو وفاق کو مجبوراً گورنر راج جیسے سخت اور غیر معمولی اقدامات پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل میں موجودگی کے باعث دیگر قیدیوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ مساوی سلوک اور جیل نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے کسی اور مناسب جیل میں منتقل کیا جائے، تاکہ کسی قسم کی ترجیح یا امتیاز کا تاثر ختم ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا اصولی مؤقف ہے کہ کسی کو بھی سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور سیاسی اختلافات کا حل مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی بات خوش آئند ہے، تاہم سیاست میں سنجیدگی، مستقل مزاجی اور آئینی حدود کی پاسداری ناگزیر ہے۔
پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ آج وہی جماعت امپورٹڈ اپوزیشن بنانے کی بات کر رہی ہے، جس نے ماضی میں سیاسی مخالفین پر سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی قیادت قوم کو یہ بھی بتائے کہ وہ پہلے مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کے بارے میں کیا مؤقف رکھتی تھی اور آج انہی سیاسی قوتوں کی حمایت کیوں حاصل کرنا چاہتی ہے۔ فیصل کریم کنڈی کے مطابق عوام اب سیاسی بیانیوں میں موجود تضادات کو بخوبی سمجھتے ہیں اور ملک کو آگے بڑھانے کے لیے ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔
