اسلام آباد: پاکستان نے لیبیا کی نیشنل آرمی (LNA) کو 4 ارب ڈالر مالیت کے جدید فوجی سازوسامان فروخت کرنے کا تاریخی معاہدہ کر لیا ہے، جس کے تحت لیبیا کو 16 JF-17 لڑاکا طیارے اور 12 سپر مشاق تربیتی طیارے فراہم کیے جائیں گے۔ یہ معاہدہ پاکستان کی دفاعی برآمدات میں اب تک کا سب سے بڑا اور اہم سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق، معاہدے کی حتمی منظوری پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور لیبیا کی نیشنل آرمی کے نائب کمانڈر اِن چیف صدام خلیفہ حفتر کے درمیان بن غازی میں ہونے والی ملاقات کے بعد دی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ اس معاہدے میں زمینی، بحری اور فضائی سازوسامان کی فراہمی شامل ہے، اور یہ تمام سامان آئندہ دو سے ڈھائی سال کے دوران لیبیا کو فراہم کیا جائے گا۔
معاہدے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ یہ پاکستان کی دفاعی برآمدات کے سب سے بڑے معاہدوں میں شمار ہوتا ہے، اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط ہوگا۔ رائٹرز کے مطابق، معاہدے کی تفصیلات میں شامل تمام ہتھیار اور تربیتی طیارے پاکستان کی جانب سے فراہم کیے جائیں گے، تاہم پاکستانی اہلکاروں نے درست تعداد کے حوالے سے کچھ رازدارانہ موقف اختیار کیا۔
معاہدے سے متعلق پاکستانی اہلکاروں نے کہا کہ یہ دفاعی تعاون اقوام متحدہ کی کسی پابندی کی خلاف ورزی نہیں کرتا، اور اس بات کی بھی تصدیق لیبیا نیشنل آرمی کے میڈیا چینل نے کی ہے۔ واضح رہے کہ لیبیا پر بین الاقوامی سطح پر اسلحے کی خریداری پر پابندی ہے، مگر معاہدہ تمام قانونی تقاضوں کے مطابق طے پایا ہے۔
مشیر نجکاری اور دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق، یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان کی دفاعی برآمدات میں اضافے کا باعث بنے گا بلکہ ملکی دفاعی صنعت کو عالمی سطح پر مستحکم اور معتبر مقام دلانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس سے پاکستان کی فضائی اور دفاعی صلاحیتیں بھی بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہوں گی، اور خطے میں پاکستان کے دفاعی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
مزید یہ کہ پاکستان نے ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ بھی ایک اسٹریٹیجک دفاعی معاہدہ کیا تھا، جس سے خطے میں اس کی دفاعی برآمدات اور عالمی تعلقات کو فروغ ملا ہے۔ اس نئے معاہدے کے بعد پاکستان کی دفاعی صنعت کے عالمی نقشے پر اہم کردار کی توقع کی جا رہی ہے۔
