اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دے دی ہے اور واضح کیا کہ بات چیت صرف جائز مطالبات پر ممکن ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی اور قیادت مذاکرات کی خواہش ظاہر کر رہی ہے، اور حکومت پہلے بھی ان سے بات چیت کے لیے تیار تھی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی قیادت کو پہلے بھی مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں اور اسمبلی فلور پر بھی انہیں بات چیت کی پیشکش کی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کی آڑ میں کسی بھی قسم کی بلیک میلنگ قبول نہیں کی جائے گی۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ ملک کی ترقی، خوشحالی اور سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ہم آہنگی پیدا کریں اور قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ ان کے مطابق حکومت ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے تاکہ سیاسی اور اقتصادی استحکام قائم رکھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق، وزیراعظم کا یہ بیان نہ صرف پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے امکانات کو بڑھاتا ہے بلکہ مستقبل میں ملکی پالیسیوں اور اقتصادی منصوبوں کے لیے مثبت سیاسی ماحول فراہم کرنے کا اشارہ بھی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی میں اس طرح کے اقدامات عوامی اعتماد اور ملکی ترقی کے لیے اہم ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ حکومت ملکی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھے گی، اور سیاسی اختلافات کو ملکی مفاد کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ پیشکش اس بات کا عندیہ بھی ہے کہ حکومت سیاسی حل اور بات چیت کے ذریعے مسائل کو ترجیح دے رہی ہے، اور ملک میں پائیدار سیاسی استحکام کے لیے ہر ممکن راستہ اپنانے کو تیار ہے۔
