پاکستان اپنے ڈیجیٹل نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، کیونکہ حکومت آئندہ سال کے آغاز میں ایک بڑے ٹیلی کام اسپیکٹرم نیلامی کے انعقاد کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف ملک میں پہلی بار فائیو جی سروسز متعارف ہونے کی راہ ہموار ہو گی بلکہ موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کو درپیش وہ بنیادی مسائل بھی حل ہونے کی امید ہے جو برسوں سے صارفین اور کاروباری طبقے کے لیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
کئی برسوں سے عام صارفین اور کاروباری ادارے سست انٹرنیٹ، کال ڈراپ ہونے اور بار بار نیٹ ورک میں خلل کی شکایات کر رہے ہیں۔ پاکستان کی آبادی تقریباً چوبیس کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور ڈیجیٹل استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث ٹیلی کام نیٹ ورکس پر دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق طلب اور دستیاب وسائل کے درمیان یہ خلا اب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ نہ صرف روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ معاشی سرگرمیوں اور مسابقتی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے بتایا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اسپیکٹرم نیلامی کا عمل جنوری کے آخری ہفتے یا فروری کے پہلے ہفتے تک مکمل کر لیا جائے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ سروس کا معیار نہ تو عالمی معیار کے مطابق ہے اور نہ ہی خطے کے کئی ممالک کے برابر ہے۔ ان کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں ٹیلی کام اسپیکٹرم کی شدید کمی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت پاکستان کی پوری آبادی تقریباً صرف دو سو چوہتر میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر انحصار کر رہی ہے، جبکہ ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں تقریباً چھ سو میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب ہے، حالانکہ وہاں آبادی کم ہے۔ اس عدم توازن کے باعث نیٹ ورک پر شدید دباؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ وزیر نے اس صورتحال کو یوں بیان کیا کہ جیسے آٹھ لین کی ٹریفک کو صرف دو لین والی سڑک پر گزارنے کی کوشش کی جا رہی ہو، جس کا نتیجہ لازمی طور پر جام اور تاخیر کی صورت میں نکلتا ہے۔
حکومت اس نیلامی کو پاکستان کی ٹیلی کام تاریخ کی سب سے بڑی نیلامی قرار دے رہی ہے۔ منصوبے کے مطابق تقریباً چھ سو میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلام کیا جائے گا، جس میں کئی ایسے فریکوئنسی بینڈز بھی شامل ہوں گے جو اس سے پہلے کبھی پاکستان میں نیلام نہیں کیے گئے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف تھری جی اور فور جی سروسز کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ فائیو جی کے آغاز کے لیے بھی عملی بنیاد فراہم ہو جائے گی۔
فائیو جی ٹیکنالوجی کے متعارف ہونے سے اس کے اثرات صرف تیز انٹرنیٹ تک محدود نہیں رہیں گے۔ پالیسی سازوں کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ڈیجیٹل کاروبار، ای کامرس، فِن ٹیک، اسمارٹ زراعت، ٹیلی میڈیسن اور صنعتی خودکاری جیسے شعبوں کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ بہتر کنیکٹیویٹی کے ذریعے پاکستان نہ صرف نئی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے سکتا ہے بلکہ عالمی ڈیجیٹل معیشت میں بھی اپنا مقام مضبوط بنا سکتا ہے۔
اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی میڈیا سے گفتگو کی اور اس بات پر زور دیا کہ اسپیکٹرم کا غیر استعمال شدہ رہ جانا براہِ راست معاشی نقصان کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق جو اسپیکٹرم فروخت یا استعمال میں نہیں آتا، وہ نہ صرف حکومتی آمدن میں کمی کا باعث بنتا ہے بلکہ ڈیجیٹل ترقی کی رفتار کو بھی سست کر دیتا ہے اور جدت کے مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی نے پہلے ہی اسپیکٹرم نیلامی سے متعلق سفارشات کی منظوری دے دی ہے۔ یہ سفارشات اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی نے طویل مشاورت کے بعد تیار کیں، جس میں ٹیلی کام کمپنیوں، ریگولیٹری اداروں اور صارفین کے نمائندوں کو شامل کیا گیا۔ اس عمل کا مقصد ایک ایسا فریم ورک بنانا تھا جو شفاف، مسابقتی اور قومی مفاد کے مطابق ہو۔
حکومت نے اس پورے عمل کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ مشاورتی ادارے نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس کی خدمات بھی حاصل کیں۔ اس ادارے نے اسپیکٹرم کی قیمت، ادائیگی کے طریقہ کار اور نیلامی کے ڈیزائن سے متعلق مشورے دیے، جو عالمی تجربات اور بین الاقوامی معیار کی بنیاد پر تیار کیے گئے تھے۔ وزیر خزانہ کے مطابق ان سفارشات کا جائزہ ایک “پاکستان فرسٹ” نقطہ نظر سے لیا گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ فیصلے ملکی حالات اور معاشی صلاحیت کے مطابق ہوں۔
ان سفارشات پر نظرثانی کے بعد انہیں ای سی سی سے منظوری مل گئی ہے اور اب یہ تجاویز حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ کابینہ کی منظوری کے بعد حکومت فوری طور پر نیلامی کے شیڈول اور شرائط کا باضابطہ اعلان کرے گی، جس سے کئی برسوں سے جاری غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق نیلامی کی کامیابی کا انحصار صرف اسپیکٹرم کی مقدار پر نہیں بلکہ اس کی قیمت، ادائیگی کی سہولتوں اور ریگولیٹری استحکام پر بھی ہو گا۔ ٹیلی کام آپریٹرز طویل عرصے سے اس بات کی نشاندہی کرتے آ رہے ہیں کہ زیادہ قیمتیں اور بھاری ٹیکسز نیٹ ورک میں سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ ان خدشات کو مشاورت کے دوران مدنظر رکھا گیا ہے اور نیلامی کا ڈیزائن اسی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔
اگر یہ منصوبہ مؤثر انداز میں نافذ ہو جاتا ہے تو پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں ایک نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ اضافی اسپیکٹرم دستیاب ہونے سے نیٹ ورک پر دباؤ کم ہو گا، سروس کا معیار بہتر ہو گا اور ٹیلی کام کمپنیاں بڑھتی ہوئی ڈیٹا ضروریات کو بہتر طور پر پورا کر سکیں گی۔ عام صارفین کے لیے اس کا مطلب تیز رفتار انٹرنیٹ، بہتر ویڈیو کالز اور مصروف اوقات میں بھی نسبتاً مستحکم کنیکشن ہو گا۔
حکومتی پالیسی ساز اس پیش رفت کو وسیع تر معاشی اصلاحات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ ایک نوجوان آبادی والے ملک میں روزگار کے مواقع بڑھانے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور پیداواری صلاحیت بہتر بنانے کے لیے تیز اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کو بنیادی ضرورت سمجھا جا رہا ہے۔ اسی لیے اسپیکٹرم نیلامی کو محض آمدن حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ مستقبل میں سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اگرچہ اس عمل کے دوران ریگولیٹری چیلنجز اور مارکیٹ سے متعلق خدشات موجود ہیں، تاہم حکومت کی حالیہ سرگرمیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ مسئلے کی سنگینی کو اب سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ کابینہ کی منظوری کے بعد واضح ٹائم لائن کے ساتھ پاکستان بظاہر اس مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے جہاں وہ نہ صرف فائیو جی دور میں قدم رکھ سکے گا بلکہ اس دیرینہ اسپیکٹرم بحران سے بھی نکلنے کی امید کر سکتا ہے جو طویل عرصے سے ٹیلی کام شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
