کراچی/اسلام آباد:پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ایک نیا باب کھل گیا ہے۔ عارف حبیب گروپ کے سربراہ عارف حبیب نے کہا ہے کہ پی آئی اے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور ان کی ٹیم اسے دوبارہ خطے کی ایک مضبوط ایئر لائن بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب نے انکشاف کیا کہ ان کا ابتدائی اندازہ تھا کہ پی آئی اے کی بولی 130 ارب روپے تک جائے گی، تاہم بالآخر 135 ارب روپے میں قومی ایئر لائن خریدی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی خواہش شروع سے ہی یہ تھی کہ پی آئی اے کے 100 فیصد شیئرز حاصل کیے جائیں تاکہ انتظامی فیصلوں میں مکمل آزادی ہو اور ادارے کو درست سمت میں لے جایا جا سکے۔
عارف حبیب کے مطابق معاہدے کے تحت 12 فیصد پریمیئم کے ساتھ ڈیڑھ سال میں مکمل ادائیگی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی سیاحت خصوصاً حج و عمرہ کے شعبے میں پی آئی اے کے پاس بہت بڑی گنجائش موجود ہے، جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی قومی ایئر لائن کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اگلے مرحلے میں کسی بین الاقوامی ایئر لائن کو بھی شراکت دار بنایا جا سکتا ہے، اور اس حوالے سے ابتدائی سطح پر چند عالمی ایئر لائنز سے بات چیت بھی ہو چکی ہے۔
عارف حبیب نے کہا کہ موجودہ اور نئے پروفیشنل عملے کے امتزاج سے کارکردگی بہتر بنائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے میں پہلے سے موجود کئی باصلاحیت افراد کو مواقع نہیں مل رہے تھے، اب انہیں آگے بڑھنے کا پورا موقع دیا جائے گا اور ادارے کے اندر اعتماد بحال کیا جائے گا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا وژن صرف کاروبار تک محدود نہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے لیے بڑے قومی منصوبے مل کر کیے جائیں۔ ان کے مطابق ایک دوسرے کو سپورٹ کرنا ہی ملک کی ترقی کی کنجی ہے۔
قومی ایئر لائن کے مستقبل کے حوالے سے عارف حبیب نے بتایا کہ لکی گروپ سمیت دیگر بڑے صنعتی گروپس سے بھی مشاورت کی جائے گی، اور نیلامی سے قبل بھی لکی گروپ کو ساتھ ملانے کی بات کی گئی تھی۔
عارف حبیب کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی عظمت بحال کرنا کوئی خواب نہیں، کیونکہ پاکستانی پروفیشنلز دنیا کے کئی ممالک میں کامیاب ایئر لائنز کھڑی کر چکے ہیں۔
گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کرکٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا:
ابھی تو ہمیں ٹاس جیتنے پر مبارکباد مل رہی ہے، اصل امتحان فیلڈنگ سیٹ کر کے میچ جیتنے کا ہے۔
