چترال: پاکستان کے شمالی علاقے چترال کے خوبصورت مگر خطرناک پہاڑی مقام گہریت گول میں غیرملکی شکاری نے کشمیری مارخور کا شکار کر کے اپنی شکار کی فہرست میں ایک نایاب اضافہ کر دیا۔ محکمہ جنگلی حیات کے مطابق روسی شہری نے مارخور کے شکار کے لیے 68 ہزار امریکی ڈالر میں قانونی لائسنس حاصل کیا۔ شکار کیے گئے مارخور کے سینگوں کی لمبائی 41 انچ ریکارڈ کی گئی ہے، جو اس نسل کے جانور کے لیے قابل ذکر اور نایاب شمار ہوتی ہے۔
محکمہ جنگلی حیات نے بتایا کہ یہ شکار کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت کیا گیا، جو پاکستان میں قانونی اور منظم شکار کو فروغ دینے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نہ صرف جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے بلکہ مقامی کمیونٹی کو معاشی فوائد بھی فراہم کرنا ہے۔ پروگرام کی آمدن کا ایک بڑا حصہ مقامی آبادی کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کیا جائے گا۔
محکمہ جنگلی حیات کے حکام نے وضاحت کی کہ یہ پروگرام مقامی کمیونٹی کی شمولیت اور جنگلی حیات کے تحفظ کے اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ شکار کے قانونی اور منظم عمل کے ذریعے علاقے کی ترقی اور مقامی روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے قانونی شکار سے مقامی لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے، جبکہ غیر قانونی شکار اور سمگلنگ کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
یہ پروگرام خاص طور پر کشمیری مارخور جیسے نایاب اور خطرے سے دوچار جانوروں کی بقا کے لیے موثر ثابت ہو رہا ہے۔ محکمہ جنگلی حیات کے مطابق، قانونی شکار سے حاصل ہونے والی آمدن کا ایک حصہ جنگلی حیات کے تحفظ، مارخور کے قدرتی مسکن کی دیکھ بھال، اور مقامی آبادی کی معاشی ترقی میں لگایا جاتا ہے۔
چترال کے مقامی رہنماؤں نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام نہ صرف ماحولیاتی تحفظ بلکہ معاشی ترقی کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی اب شکار کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن سے اپنی کمیونٹی کی ضروریات پوری کر سکتی ہے اور بچوں کی تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات میں بہتری لا سکتی ہے۔
