وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لے کر پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی باضابطہ پیشکش کی، تاہم حکومت کو بخوبی اندازہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان درحقیقت مذاکرات نہیں چاہتے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے بینچ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا واضح طریقہ کار طے کیا ہے، جس کے تحت ملاقات کے بعد سیاسی سرگرمیوں، ہنگامہ آرائی، پریس کانفرنسز اور تنازعات کی اجازت نہیں ہوگی، مگر ماضی میں ان ملاقاتوں کے بعد ہمیشہ سیاسی ماحول گرم ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو اس طریقہ کار پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی تھی، اس لیے اگر قانون کی پاسداری کی جائے تو ملاقات میں کوئی رکاوٹ نہیں، اور اگر جیل حکام عدالتی حکم پر عمل نہیں کر رہے تو اپوزیشن کو عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ حکومت کی نیت پر کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب وزیراعظم نے مذاکرات کی دعوت دی تو یہ کہا گیا کہ ان کے پاس اختیار نہیں، حالانکہ یہ آفر نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لے کر دی گئی ہے، جسے قبول کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب اپوزیشن یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ وہ تحریک چلائے گی اور حکومت مذاکرات کی بات کر کے انہیں ٹریپ کرنا چاہتی ہے، جبکہ اپوزیشن خود یہ سمجھ رہی ہے کہ ان کی تحریک کامیاب ہونے جا رہی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن 5 فروری کو پہیہ جام کر کے دیکھ لے، اس کے بعد دوبارہ بات کر لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ملاقات کی شرط، پھر بانی پی ٹی آئی کو منانے کی بات دراصل وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی مذاکرات نہیں چاہتے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی خود ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی، کیونکہ وہ اقتدار میں ہوں تو اپوزیشن سے بات نہیں کرتے
