تقریباً ڈیڑھ دہائی کے وقفے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان فضائی رابطوں کی بحالی کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ طویل عرصے سے معطل براہ راست پروازیں اب دوبارہ شروع ہونے جا رہی ہیں، جس کے ساتھ ہی مسافروں کے لیے پروازوں کا باقاعدہ شیڈول بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو نہ صرف سفری سہولت کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے بلکہ اسے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور بہتر ہوتے ہوئے سفارتی تعلقات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش کی قومی ایئرلائن، بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز، نے جمعرات کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد پاکستان کے لیے براہ راست فضائی سروس بحال کی جا رہی ہے۔ ایئرلائن حکام کے مطابق یہ فیصلہ طویل مشاورت اور دونوں ممالک کے درمیان روابط میں حالیہ بہتری کے بعد کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے تحت ڈھاکا اور کراچی کے درمیان براہ راست پروازیں دوبارہ شروع ہوں گی، جو سال 2012 کے بعد پہلی باقاعدہ کمرشل فلائٹس ہوں گی۔
ایئرلائن کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق ڈھاکا سے کراچی کے لیے پہلی براہ راست پرواز 29 جنوری کو روانہ ہونے کا امکان ہے۔ یہ پرواز ہفتے میں دو مرتبہ چلائی جائے گی، جس سے دونوں شہروں کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو خاصی سہولت حاصل ہو گی۔ بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی منیجر بشریٰ اسلام نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ابتدا میں ہفتہ وار دو پروازوں کے ساتھ اس روٹ کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے، جبکہ مستقبل میں مسافروں کی تعداد اور طلب کو دیکھتے ہوئے اس میں اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔
ایئرلائن کے باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ براہ راست پروازوں کی بحالی سے نہ صرف بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان سفری وقت کم ہو جائے گا بلکہ کاروباری افراد، سیاحوں اور دونوں ممالک میں رہنے والے خاندانوں کے لیے بھی رابطے آسان ہو جائیں گے۔ بیان کے مطابق اس فیصلے سے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، سیاحت میں اضافہ ہو گا اور عوامی سطح پر تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
اس سے قبل پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو براہ راست فضائی سہولت میسر نہیں تھی، جس کے باعث انہیں دبئی، دوحہ یا دیگر خلیجی شہروں کے ذریعے کنیکٹنگ فلائٹس استعمال کرنا پڑتی تھیں۔ اس صورتحال میں سفر نہ صرف طویل ہو جاتا تھا بلکہ اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہو جاتا تھا۔ اب براہ راست پروازوں کی بحالی سے یہ مشکلات بڑی حد تک کم ہو جائیں گی اور مسافروں کو وقت اور پیسے دونوں کی بچت حاصل ہو گی۔
فضائی رابطوں کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان دیگر شعبوں میں بھی روابط بحال ہونے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ نومبر 2024 میں کراچی اور بنگلہ دیش کی اہم بندرگاہ چٹاگانگ کے درمیان مال بردار بحری جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع کی گئی تھی۔ اس اقدام کو دوطرفہ تجارت کے فروغ کی جانب ایک عملی قدم سمجھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اقتصادی تعلقات کو دوبارہ فعال کرنے میں سنجیدہ ہیں۔
سفارتی سطح پر بھی حالیہ مہینوں میں مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ گزشتہ ماہ بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ملاقات کے دوران اس امید کا اظہار کیا تھا کہ کراچی اور ڈھاکا کے درمیان براہ راست فضائی سروس جنوری میں بحال ہو جائے گی۔ اب اس اعلان کے بعد یہ امید عملی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
ماضی قریب میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات خاصے نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے دور حکومت میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے، جس کی وجہ سیاسی اختلافات اور باہمی اعتماد کی کمی بتائی جاتی رہی۔ تاہم بنگلہ دیش میں عوامی احتجاج، حکومت کی تبدیلی اور شیخ حسینہ کی جلاوطنی کے بعد حالات میں واضح تبدیلی آئی ہے، اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی جانب قدم بڑھائے ہیں۔
حالیہ عرصے میں اعلیٰ سطحی رابطوں نے بھی اس بہتری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دسمبر میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق بنگلہ دیش کے دورے پر گئے تھے، جہاں انہوں نے ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کی۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور سفارتی سطح پر اعتماد سازی کی ایک اہم علامت قرار دیا گیا۔
اسی طرح اگست 2025 میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے بھی ڈھاکا کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے پروفیسر محمد یونس سے ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ ان ملاقاتوں کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوا کہ دونوں ممالک ماضی کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ براہ راست پروازوں کی بحالی صرف ایک سفری سہولت نہیں بلکہ یہ ایک علامتی قدم بھی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس فیصلے سے نہ صرف عوامی سطح پر روابط مضبوط ہوں گے بلکہ ثقافتی تبادلے، تعلیمی مواقع اور کاروباری شراکت داری کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ فضائی سروس کامیابی سے جاری رہتی ہے تو مستقبل میں دیگر شہروں کے درمیان بھی براہ راست پروازیں شروع کیے جانے کا امکان موجود ہے۔ اس کے علاوہ سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے بھی مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی ایک خوش آئند پیش رفت ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک مثبت موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ طویل عرصے کے بعد ہونے والا یہ فیصلہ نہ صرف مسافروں کے لیے سہولت کا باعث بنے گا بلکہ خطے میں باہمی تعاون اور اعتماد کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ جیسے جیسے یہ روابط مضبوط ہوں گے، توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے وقت میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم اور ہمہ جہت ہو جائیں گے۔
