اسلام آباد: بیورو آف امیگریشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں 7 لاکھ 62 ہزار 499 پاکستانی روزگار کی تلاش میں ملک سے باہر گئے، جبکہ سال 2024 میں یہ تعداد 7 لاکھ 27 ہزار 381 تھی۔
بیرونِ ملک جانے والے افراد میں 18 ہزار 352 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی شامل ہیں، جو ملک میں جاری برین ڈرین کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد میں 5,659 اکاؤنٹنٹس، 10,503 باورچی، 3,795 ڈاکٹر، 5,946 انجینیئرز، 1,640 نرسز اور 1,725 اساتذہ شامل ہیں۔ اسی طرح ہنرمند اور نیم ہنرمند افراد کی بڑی تعداد بھی بیرونِ ملک گئی، جن میں 1 لاکھ 63 ہزار 718 ڈرائیور، 6,475 الیکٹریشن، 12,703 ٹیکنیشنز، 11,777 مینیجرز، 2,306 پلمبر اور 2,027 ویٹرز شامل ہیں۔
مہارت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو 13,657 انتہائی ہنرمند، 2 لاکھ 22 ہزار 171 ہنرمند، 42,257 نیم ہنرمند اور 4 لاکھ 66 ہزار 62 غیر ہنرمند افراد نے بیرونِ ملک ملازمت اختیار کی۔ ملک سے جانے والے افراد کی سب سے بڑی تعداد خلیجی ممالک گئی، جن میں سعودی عرب میں 5 لاکھ 30 ہزار 256، قطر میں 68 ہزار 376، متحدہ عرب امارات میں 52 ہزار 664، بحرین میں 37 ہزار 726 اور کویت میں 6,590 پاکستانی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کم تعداد میں پاکستانی امریکا (1,005)، برطانیہ (4,355)، جرمنی (984)، اٹلی (813)، چین (2,230)، جاپان (2,210) اور رومانیہ (1,109) میں ملازمت کے لیے گئے۔
ماہرین کے مطابق تعلیم یافتہ اور ہنرمند افراد کی بڑھتی ہوئی بیرونِ ملک ہجرت ملکی معیشت، صحت اور تعلیمی نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے، تاہم دوسری جانب ترسیلاتِ زر میں اضافہ ملکی معاشی استحکام کے لیے امید کی کرن بھی ہے۔ رپورٹ میں ظاہر کیا گیا ہے کہ 2025 میں زیادہ تر پاکستانی غیر ہنرمند اور نیم ہنرمند کاموں کے لیے باہر گئے، جبکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور انتہائی ہنرمند افراد کی بیرونِ ملک روانگی ملک کی انسانی سرمایہ کاری پر طویل مدتی اثر ڈال سکتی ہے۔
