اسلام آباد کے ایک پوش رہائشی علاقے میں خوشیوں سے سجا گھر چند لمحوں میں قیامت کا منظر بن گیا، جب شادی کی تقریب کے دوران ایک ہولناک دھماکے نے نہ صرف تقریب کو تباہ کر دیا بلکہ کئی خاندانوں کو ناقابلِ تلافی صدمے سے دوچار کر دیا۔ اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر شہری علاقوں میں غیر محفوظ گیس سلنڈروں کے استعمال اور حفاظتی انتظامات کی سنگینی کو نمایاں کر دیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی سیون ٹو میں پیش آیا، جہاں ایک نجی رہائش گاہ میں شادی کی تقریب جاری تھی۔ گھر میں مہمانوں کی آمدورفت تھی، ماحول خوشی، قہقہوں اور دعاؤں سے بھرا ہوا تھا، مگر اچانک ایک زور دار دھماکے نے پورے علاقے کو دہلا کر رکھ دیا۔ دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ اردگرد کے مکانات بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے اور کئی گھروں کی دیواریں، کھڑکیاں اور چھتیں متاثر ہوئیں۔
ریسکیو اور طبی ذرائع کے مطابق اس سانحے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ گیارہ افراد مختلف نوعیت کے زخموں کے باعث اسپتال منتقل کیے گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں وہ دو افراد بھی شامل ہیں جن کے لیے یہ دن زندگی کی نئی شروعات کا پیغام لے کر آیا تھا، یعنی دلہا اور دلہن۔ ان کی اچانک موت نے نہ صرف ان کے قریبی رشتہ داروں بلکہ پورے علاقے کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔
واقعے کے فوراً بعد امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ترجمان ڈاکٹر عنیزہ جلیل کے مطابق چھ لاشیں اور گیارہ زخمی افراد کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے اور اسپتال کے مختلف شعبے ہائی الرٹ پر ہیں۔ واقعے کی سنگینی کے پیش نظر پمز کی انتظامیہ نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کی ہدایت پر فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں تاخیر نہ ہو۔
ڈاکٹر عنیزہ جلیل کے مطابق زخمیوں میں ایک شخص کی حالت نسبتاً زیادہ تشویشناک تھی، جسے اسپتال کے برن سینٹر منتقل کیا گیا۔ یہ مریض تقریباً بیس فیصد تک جھلس چکا تھا اور ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم اس کے علاج میں مصروف رہی۔ دیگر زخمیوں کو بھی مختلف وارڈز میں داخل کر کے ان کا معائنہ اور علاج جاری رکھا گیا۔
ادھر انتظامی سطح پر بھی فوری ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل، صاحبزادہ یوسف، ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کی ہدایات پر موقع پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے باعث کم از کم چار رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ جاں بحق افراد میں دلہا اور دلہن شامل ہیں، جو اس سانحے کو مزید دلخراش بنا دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکا اسی مقام پر ہوا جہاں شادی کی تقریب منعقد کی جا رہی تھی اور اس وقت وہاں متعدد مہمان بھی موجود تھے۔ خوش قسمتی سے جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی آلات کی مدد سے ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا، جس سے ممکنہ طور پر جانی نقصان میں مزید اضافہ ہونے سے بچاؤ ہو سکا۔ تاہم ریسکیو ٹیمیں تاحال احتیاطاً مزید تلاشی کے عمل میں مصروف رہیں تاکہ کسی بھی فرد کے ملبے میں دبے ہونے کا احتمال مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ واقعہ گیس سلنڈر کے پھٹنے کے باعث پیش آیا، تاہم اصل وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ متعلقہ ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا سلنڈر غیر معیاری تھا، حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی، یا کسی اور تکنیکی خرابی نے اس المیے کو جنم دیا۔
یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے، جو شہری علاقوں میں گیس سلنڈروں کے بے دریغ اور غیر محفوظ استعمال پر اٹھتا ہے۔ ماضی میں بھی ایسے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں، جن میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، مگر اس کے باوجود مؤثر روک تھام اور سخت نگرانی کے فقدان کی شکایات برقرار ہیں۔
سانحے پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اس دل دہلا دینے والے واقعے پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی۔
چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس نے ایک خاندان کی خوشیوں کو لمحوں میں غم میں بدل دیا۔ انہوں نے اس موقع پر گیس سلنڈر دھماکوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ادا کریں۔ ان کے مطابق غیر محفوظ اور غیر معیاری گیس سلنڈروں کے استعمال کی روک تھام کے لیے نہ صرف قوانین پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے بلکہ عوام میں آگاہی پیدا کرنا بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ حفاظتی اقدامات کو محض کاغذی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی سطح پر مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے، تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے حادثات سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی ناقابلِ قبول ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ شادی جیسی مقدس اور خوشیوں بھری تقریب کا اس طرح المیے میں بدل جانا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معمولی سی غفلت بھی بڑے سانحات کا سبب بن سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام، انتظامیہ اور عوام سب مل کر حفاظتی اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنائیں، تاکہ مستقبل میں کسی اور گھر کی خوشیاں اس طرح ماتم میں نہ بدلیں۔
