پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایک بار پھر سوشل میڈیا صارفین کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے اور زور دیا ہے کہ غیر قانونی، گمراہ کن، ہتک آمیز یا نقصان دہ مواد کو فوراً ہٹا دیا جائے۔ جمعرات کو جاری ہونے والے اس عوامی انتباہ میں ریگولیٹر نے واضح کیا کہ آن لائن مواد کی تخلیق، اپلوڈ یا شیئرنگ صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ قانون کے تحت ایک سنگین جرم بھی ہے۔
پی ٹی اے نے اپنے انتباہ میں الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون (PECA) 2016 کے سیکشن 20 کا حوالہ دیا، جس کے تحت جان بوجھ کر ایسا مواد پھیلانا جو افراد یا اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچائے یا پرائیویسی کی خلاف ورزی کرے، قابل سزا جرم ہے۔ اس قانونی شق کے تحت کسی بھی صارف کے لیے گمراہ کن، ہتک آمیز یا نقصان دہ مواد کی تخلیق یا پھیلانا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
پی ٹی اے نے صارفین پر زور دیا کہ وہ آن لائن ایسے مواد سے مکمل گریز کریں جو نقصان دہ یا گمراہ کن ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے بیانات یا پوسٹس میں حصہ لینا جو قومی سالمیت، اداروں کی عزت یا افراد کی ساکھ کو متاثر کریں، سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویہ ایک اجتماعی شہری ذمہ داری ہے، اور آن لائن سرگرمیاں معاشرتی ہم آہنگی، عوامی اعتماد اور قومی استحکام پر حقیقی اثر ڈالتی ہیں۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آن لائن افواہوں نے صارفین میں تشویش پیدا کی۔ 15 جنوری کو سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ گردش کرنے لگا کہ ملک گیر انٹرنیٹ سروس متاثر ہو گئی ہے۔ پی ٹی اے نے فوری وضاحت جاری کرتے ہوئے اس معلومات کو غلط قرار دیا اور کہا کہ اس دوران صرف سمندری کیبل کی معمول کی دیکھ بھال ہو رہی تھی، جس کی وجہ سے معمولی سست روی محسوس ہو سکتی تھی، مگر مجموعی طور پر انٹرنیٹ کی خدمات مستحکم رہیں۔
حالیہ مہینوں میں پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار اور استحکام صارفین کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ صارفین اکثر سست رفتاری، غیر متوقع رکاوٹوں اور کارکردگی میں کمی کی شکایت کرتے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجوہات میں سمندری کیبل کی دیکھ بھال، مختلف علاقوں میں سپیکٹرم کی محدودیت اور سیکیورٹی سے متعلق اقدامات شامل ہیں، جو کبھی کبھار صارف کے تجربے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ عوامی سہولت کو کم سے کم متاثر کرنے کے لیے ضروری اقدامات جاری ہیں۔
پی ٹی اے نے انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے جاری اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ حال ہی میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے 600 میگاہرٹز سپیکٹرم کی نیلامی کی منظوری دی ہے، جس سے براڈبینڈ کی کارکردگی میں اضافہ، ڈیٹا ٹریفک میں کمی اور پاکستان میں 5G خدمات کے نفاذ کی راہ ہموار ہوگی۔ ٹیلی کمیونیکیشن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سپیکٹرم الاٹمنٹ شہری علاقوں میں انٹرنیٹ کی کارکردگی بہتر کرے گی اور جدید موبائل اور ڈیٹا سروسز کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔
پی ٹی اے کا انتباہ اس ضمن میں بھی اہم ہے کہ پاکستان میں آن لائن مواد کے قانونی ضابطے پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، جنوری 2023 سے جون 2024 تک 44,000 سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پوسٹس کو PECA کے تحت ہٹایا یا بلاک کیا گیا، جن میں فیس بک، یوٹیوب اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) شامل ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد غیر قانونی، ہتک آمیز یا عوامی نظم و ضبط کے لیے خطرہ بننے والے مواد کی روک تھام تھا، جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے ضابطے آن لائن بیانیے کی نگرانی میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
پی ٹی اے نے صارفین کو یاد دہانی کرائی کہ آن لائن غلط معلومات، نفرت انگیز یا ہتک آمیز مواد پھیلانا صرف اخلاقی خلاف ورزی نہیں بلکہ قانونی جرم بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق، آن لائن مواد کی تیز رفتار گردش کی وجہ سے غلط یا نقصان دہ معلومات کا اثر بہت وسیع اور فوری ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف افراد اور اداروں کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
پی ٹی اے کے انتباہ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ماحول میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رسائی بڑھنے کے ساتھ ہی یہ عوامی مکالمے اور رائے سازی کے لیے ایک اہم ذریعہ بن گئے ہیں۔ پی ٹی اے نے صارفین کو یاد دلایا کہ آن لائن آزادی کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں بھی آتی ہیں، اور انہیں محتاط رہنا چاہیے کہ وہ ایسا مواد نہ پھیلائیں جو قانون یا قومی مفادات کے خلاف ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ PECA کے تحت قوانین کی پابندی دو طرح کے فوائد فراہم کرتی ہے: ایک تو یہ شہریوں کو ہراسانی، گمراہ کن معلومات اور ساکھ کے نقصان سے بچاتا ہے، اور دوسرا یہ قومی مواصلاتی نیٹ ورک کی سالمیت برقرار رکھتا ہے۔ سیکشن 20 کے تحت جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے والے افراد کو سزا دی جا سکتی ہے، اور حالیہ انتباہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے ڈیجیٹل اسپیس میں قانونی نگرانی فعال ہے اور صارفین کو جوابدہ بنایا جا رہا ہے۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری یہ انتباہ صارفین کو آن لائن ذمہ داری کا ادراک کرانے اور انہیں محتاط رویہ اپنانے کی ہدایت کرتا ہے۔ حکومت اور ریگولیٹرز کا مقصد یہ ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد محفوظ رہیں، ڈیجیٹل اسپیس شفاف اور قانون کے مطابق ہو، اور جدید ٹیکنالوجی کے فوائد مستحکم اور ذمہ دار طریقے سے حاصل کیے جائیں۔
