اسلام آباد: قومی سیاست میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ یہ اعلان جمعے کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کیا گیا، جس کی صدارت خود اسپیکر سردار ایاز صادق نے کی۔
اجلاس کے آغاز میں ہی اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کو آگاہ کیا کہ آج وقفۂ سوالات نہیں ہوگا۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے اپوزیشن کے چیف ویپ عامر ڈوگر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے چیمبر آئیں تاکہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن دیا جا سکے۔ بعد ازاں اسپیکر نے ایوان میں محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا باضابطہ اعلان کر دیا، جس پر اپوزیشن بینچز کی جانب سے ڈیسک بجا کر خیرمقدم کیا گیا۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا منصب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب خان کے نااہل ہونے کے بعد خالی ہوا تھا۔ عمر ایوب خان ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہیں 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں عدالتوں سے سزائیں ملنے کے بعد نااہل قرار دیا گیا۔
گزشتہ برس 6 اگست کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں سے سزائیں پانے والے پاکستان تحریک انصاف کے نو اراکینِ پارلیمان کو نااہل قرار دیا تھا۔ ان میں قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں کے اہم اپوزیشن رہنما شامل تھے، جن میں قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز بھی شامل تھے۔
سیاسی ذرائع کے مطابق سابق وزیرِاعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے پہلے ہی محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے نامزد کر رکھا تھا۔ اس نامزدگی کو اپوزیشن جماعتوں کی اکثریت کی حمایت بھی حاصل تھی۔
اکتوبر میں اپوزیشن کے 74 اراکینِ قومی اسمبلی نے ایک مشترکہ درخواست قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائی تھی، جس میں محمود خان اچکزئی کو فوری طور پر اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اپوزیشن کے چیف ویپ عامر ڈوگر نے اس وقت تصدیق کی تھی کہ درخواست پر واضح اکثریت کے دستخط موجود ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق محمود خان اچکزئی کی تقرری نہ صرف اپوزیشن کو ایک متفقہ قیادت فراہم کرے گی بلکہ پارلیمان کے اندر جمہوری کردار کو بھی مضبوط کرے گی۔ ان کی پارلیمانی تجربہ، اصولی سیاست اور وفاقی سیاست میں کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ اپوزیشن کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
