اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مالی سال 2024-25 کے گوشوارے مقررہ وقت پر جمع نہ کرانے پر ایک بڑی اور سخت کارروائی کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے 32 ارکانِ پارلیمان کی رکنیت معطل کر دی ہے، جبکہ اس سلسلے میں معطل اراکین کی تفصیلی فہرست بھی جاری کر دی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق معطل کیے گئے ارکان میں ملک کی نمایاں سیاسی شخصیات شامل ہیں جن میں سید علی موسیٰ گیلانی، سید عبدالقادر گیلانی، سائرہ تارڑ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما خالد مقبول صدیقی شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ گوشوارے جمع نہ کرانے والے یہ ارکان جب تک اپنے مالی اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جمع نہیں کرواتے اس وقت تک وہ قومی اسمبلی یا متعلقہ ایوان کی کسی بھی کارروائی میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوں گے، تاہم جیسے ہی گوشوارے جمع کرائے جائیں گے ان کی رکنیت فوری طور پر بحال کر دی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ کارروائی صرف قومی اسمبلی تک محدود نہیں رہی بلکہ صوبائی اسمبلیوں اور ایوانِ بالا کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پنجاب اسمبلی کے 50 ارکان، سندھ اسمبلی کے 33 ارکان، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 28 ارکان اور بلوچستان اسمبلی کے 7 ارکان کی رکنیت بھی مالی گوشوارے جمع نہ کرانے پر معطل کر دی گئی ہے۔ اسی طرح سینیٹ آف پاکستان کے 9 ارکان بھی اس کارروائی کی زد میں آ گئے ہیں، جس کے باعث ایوانِ بالا میں قانون سازی اور پارلیمانی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مالی گوشواروں کا بروقت جمع کرانا آئینی اور قانونی تقاضا ہے اور اس میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ الیکشن قوانین کے تحت ہر منتخب نمائندے پر لازم ہے کہ وہ اپنے اور زیرِ کفالت افراد کے اثاثوں، واجبات اور مالی تفصیلات سالانہ بنیادوں پر جمع کرائے، تاکہ شفافیت اور احتساب کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق الیکشن کمیشن کا یہ اقدام بظاہر ایک معمول کی قانونی کارروائی ہے، تاہم اتنی بڑی تعداد میں منتخب نمائندوں کی معطلی نے پارلیمانی نظام، حکومتی و اپوزیشن صفوں اور سیاسی جماعتوں کے نظم و ضبط پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
