افواجِ پاکستان بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی سلامتی کے چیلنجز اور جدید جنگی تقاضوں کے مطابق ملٹی ڈومین آپریشنز کی صلاحیتوں کو مسلسل فروغ دے رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں حالیہ جنگی مشقوں میں فضائی، زمینی، سائبر، الیکٹرانک اور انفارمیشن وارفیئر کو ایک مربوط اور مؤثر حکمتِ عملی کے تحت کامیابی سے بروئے کار لایا گیا۔
ان مشقوں کا مقصد روایتی اور غیر روایتی جنگی خطرات کا مؤثر جواب دینے، دشمن کی جنگی صلاحیت کو مفلوج کرنے اور میدانِ جنگ میں فیصلہ کن برتری حاصل کرنا تھا۔ ملٹی ڈومین آپریشنز کے دوران الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے دشمن کے مواصلاتی نظام، ریڈارز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر کو غیر مؤثر بنایا گیا، جس سے دشمن کی رابطہ کاری اور ردِعمل کی صلاحیت شدید متاثر ہوئی۔
جدید فضائی طاقت، دور مار کرنے والے ہتھیاروں، پریسیژن اسٹرائکس اور کثیرالمقاصد ڈرونز کے ہم آہنگ استعمال سے دشمن کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر محدود کرنے کی عملی مشق کی گئی۔ ان ڈرونز نے نہ صرف نگرانی اور انٹیلی جنس کے فرائض انجام دیے بلکہ ٹارگٹ ایکوزیشن اور درست نشانہ بازی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
ملٹی ڈومین آپریشنز کے تحت تباہ کن بمباری، سائبر آپریشنز اور انفارمیشن وارفیئر کے ذریعے دشمن کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو مفلوج کرنے کی بھرپور مشق کی گئی۔ سائبر حملوں کے ذریعے دشمن کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا جبکہ انفارمیشن آپریشنز کے ذریعے اس کے حوصلے اور بیانیے کو کمزور کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی گئی۔
یہ جامع جنگی مشقیں اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ افواجِ پاکستان نہ صرف ملٹی ڈومین آپریشنز کی مؤثر منصوبہ بندی کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، تربیت یافتہ افرادی قوت اور مربوط کمانڈ اسٹرکچر کے باعث ان کے عملی اور کامیاب نفاذ کی مکمل اہلیت بھی رکھتی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ مشقیں افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری اور قومی دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کی عکاس ہیں، جو کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر، بروقت اور فیصلہ کن جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں
