اسلام آباد: سینیٹ کی پارلیمانی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں علامہ راجہ ناصر عباس کو باضابطہ طور پر سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کر دیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ایوان بالا کے اجلاس کے دوران اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے رولنگ دی کہ علامہ راجہ ناصر عباس کو سینیٹ کے 22 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جو اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے لیے درکار عددی تقاضے پورے کرتی ہے۔
چیئرمین سینیٹ کے اعلان کے بعد سینیٹ سیکرٹریٹ نے قائدِ حزبِ اختلاف کی تعیناتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ یہ نوٹیفکیشن قائم مقام سیکرٹری سینیٹ کے دستخط سے جاری ہوا، جس کی نقول علامہ راجہ ناصر عباس کے علاوہ تمام معزز اراکینِ سینیٹ کو بھی ارسال کر دی گئیں۔ اس طرح ایوان بالا میں اپوزیشن کی قیادت کا معاملہ باقاعدہ طور پر طے پا گیا۔
قائدِ حزبِ اختلاف منتخب ہونے کے بعد علامہ راجہ ناصر عباس نے سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایک مثبت اور مفاہمانہ سیاسی رویے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر ایسے اچھے اور تعمیری اقدام میں حکومت کا ساتھ دیں گے جو عوام کے مفاد میں ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ بے گناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے عام معافی کا اعلان کرے اور پارلیمنٹ کو بھی سیاسی قیدیوں کے معاملے پر مؤثر آواز بلند کرنی چاہیے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ ایوان بالا عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کا کردار ادا کرے اور سینیٹ میں ایسی قانون سازی کو فروغ دیا جائے جس سے عام آدمی کو براہ راست فائدہ پہنچے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اپوزیشن ایک ذمہ دار اور بامقصد کردار ادا کرے گی، جس کا محور عوامی مسائل کا حل ہوگا۔
ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے علامہ راجہ ناصر عباس کو قائدِ حزبِ اختلاف بننے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی لیڈر کو قائدِ حزبِ اختلاف کی نشست پر بٹھایا گیا ہے اور توقع ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ایوان کا ماحول مثبت، مہذب اور تعمیری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، بشرطیکہ اسے شائستگی اور برداشت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
علامہ راجہ ناصر عباس کی بطور قائدِ حزبِ اختلاف تقرری کو سینیٹ میں ایک نئی سیاسی فضا کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اصولی اختلاف کے ساتھ ساتھ قومی مفاد میں تعاون کی امید بھی کی جا رہی ہے۔
