اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے متعدد مواقع پر اپوزیشن کو بات چیت کی پیشکش کی، مگر مثبت جواب نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی حالات کا تقاضا ہے کہ اپوزیشن وزیراعظم کی آفر کو قبول کرے تاکہ پارلیمنٹ مؤثر انداز میں اپنا کردار ادا کر سکے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جمہوری نظام میں قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف کا باہمی رابطہ ناگزیر ہوتا ہے، کیونکہ انہی دو ستونوں پر پارلیمنٹ کی کارروائی اور قانون سازی کا دار و مدار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان کوئی باضابطہ رابطہ موجود نہیں، جو نہ صرف جمہوری اقدار بلکہ پارلیمانی روایات کے بھی منافی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، سڑکوں یا محاذ آرائی کے بجائے پارلیمنٹ کو مسائل کے حل کا مرکز بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کمزوری نہیں بلکہ سیاسی بالغ نظری کی علامت ہوتے ہیں۔
ایم کیو ایم کو وزیراعظم کی جانب سے مشاورت میں شامل نہ کیے جانے سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ جن ملاقاتوں میں وہ خود شریک رہے، وہاں ایم کیو ایم کی قیادت نے وزیراعظم کے ساتھ مشاورت پر اطمینان کا اظہار کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی سطح پر کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو حکومت اس پر نظرثانی کے لیے تیار ہے، کیونکہ اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا حکومت کی ترجیح ہے۔
کراچی میں پیش آنے والے حالیہ افسوسناک سانحے پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ صرف ایک شہر یا صوبے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا سانحہ ہے اور ہر پاکستانی اس پر غمزدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ذمہ داران کا تعین اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجز کا حل صرف اور صرف مکالمے، برداشت اور پارلیمانی عمل میں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں مذاکرات کی راہ اپنائے گی تاکہ جمہوری نظام کو استحکام مل سکے۔
