جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ایک منظم اور سوچی سمجھی عالمی سازش کے تحت عرب دنیا کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا اور فلسطین کے مسئلے کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو کسی بھی صورت حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم یا عالمی دباؤ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے محض ایک سال بعد اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا، جبکہ فلسطین کی سرزمین صدیوں سے فلسطینی عوام کی ملکیت رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیگ آف نیشنز کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی نے یہودیوں کی جبری دربدری پر باقاعدہ رپورٹ مرتب کی تھی اور اس میں واضح طور پر سفارش کی گئی تھی کہ انہیں فلسطین میں آباد نہ کیا جائے، مگر عالمی طاقتوں نے اس رپورٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے فلسطین کی زمین پر اسرائیلی ریاست قائم کردی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عرب دنیا کو دھوکہ دے کر خطے میں مستقل عدم استحکام پیدا کیا گیا، جس کے نتائج آج غزہ اور فلسطین کے عوام بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک تاریخی غلطی نہیں بلکہ بین الاقوامی انصاف کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دیے گئے بورڈ آف پیس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورم غیر جانبدار نہیں بلکہ یکطرفہ ایجنڈے پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حیران کن طور پر اس بورڈ میں فلسطینی عوام یا ان کی حقیقی نمائندگی شامل نہیں جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو شامل کیا گیا ہے، جو خود فلسطینیوں پر مظالم کا ذمہ دار ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایسے فورمز امن کے بجائے مزید انتشار کو جنم دیتے ہیں۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں حماس اور فلسطینی عوام کے جائز مؤقف کو مدنظر رکھنا چاہیے اور کسی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنے کے مترادف ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ مظلوم اقوام کے ساتھ رہا ہے اور اسے اسی روایت کو برقرار رکھنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے اور نہ ہی قوم کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تو کیا کابینہ کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی جیسے حساس معاملات پر خاموشی غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ واضح کرے کہ کن قوتوں کے دباؤ پر اور کن مقاصد کے تحت فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فلسطین اور غزہ سے متعلق کسی بھی عالمی فورم یا معاہدے میں شمولیت سے قبل پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کرائی جائے تاکہ قومی مؤقف عوام کے سامنے واضح ہو اور کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
