جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے فورم پر پیش آنے والی حالیہ سفارتی پیش رفت کے تناظر میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے پاکستان کے کردار کو کھلے دل سے سراہا ہے اور اسے اصولوں پر مبنی، جرات مندانہ اور بین الاقوامی انصاف کے تقاضوں کے مطابق قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ایک ایسے وقت میں ایران کے حق میں واضح مؤقف اختیار کیا جب عالمی دباؤ، سیاسی مفادات اور بعض طاقتور حلقوں کی خواہشات اس کے برعکس تھیں، تاہم اسلام آباد نے کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر اپنی آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی کا عملی مظاہرہ کیا۔
ایرانی سفیر نے اس امر پر خصوصی طور پر زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد نہ صرف یکطرفہ تھی بلکہ اس میں حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دینا ایک معمولی سفارتی قدم نہیں تھا بلکہ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان آج بھی بین الاقوامی معاملات میں انصاف، توازن اور اصول پسندی کو فوقیت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ وقتی فائدے یا سیاسی مصلحت کی بنیاد پر نہیں بلکہ عالمی قوانین اور انسانی وقار کے احترام کے تناظر میں کیا گیا۔
رضا امیری مقدم کے مطابق، پاکستان کی قیادت نے اس معاملے پر غیر معمولی بالغ نظری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا نام لے کر کہا کہ ان دونوں رہنماؤں کی قیادت میں پاکستان نے ایک ایسا مؤقف اپنایا جو نہ صرف خطے میں استحکام کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی سطح پر کثیرالجہتی نظام کے تحفظ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا یہ کردار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ عالمی سیاست میں محض تماشائی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور اصولی شراکت دار ہے۔
ایرانی سفیر نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد دراصل سیاسی مقاصد کے تحت تیار کی گئی تھی اور اس کا انسانی حقوق سے کوئی مخلصانہ تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک اور گروہ مسلسل یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ عالمی اداروں کو مخصوص سیاسی ایجنڈوں کے لیے استعمال کیا جائے، مگر اس بار بھی ان کی یہ کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی۔ پاکستان کی جانب سے ووٹنگ کے مطالبے پر زور دینا اور پھر اس قرارداد کے خلاف ووٹ دینا اسی ناکامی کی ایک بڑی وجہ بنا۔
ان کے بقول، ایران کے خلاف ہونے والی یہ تازہ سفارتی مہم دراصل مسلسل تیسری مرتبہ ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر ایران کو دباؤ میں لانے کے لیے سیاسی حربے استعمال کیے گئے، جن میں بیرونی حمایت سے ہونے والے ہنگامے، میڈیا پروپیگنڈا اور بین الاقوامی فورمز کا غلط استعمال شامل تھا، مگر ہر بار یہ کوششیں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارہ روزہ جارحانہ مہم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، جو کسی ٹھوس نتیجے تک نہ پہنچ سکی۔
رضا امیری مقدم نے پاکستان کے کردار کو انصاف اور خودمختاری کے اصولوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ قومی خودمختاری کے احترام اور اقوام کے باہمی مساوی حقوق پر یقین رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان کی حمایت صرف ایران کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ یہ عالمی نظام کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہے کہ ابھی ایسے ممالک موجود ہیں جو طاقت کے بجائے اصولوں کی زبان سمجھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا یہ اقدام انسانی حقوق کے حقیقی تصور کے عین مطابق ہے، کیونکہ انسانی حقوق کا مطلب صرف سیاسی نعروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی قوم کے خلاف ناانصافی، تعصب اور سیاسی انتقام کی مخالفت کی جائے۔ ان کے مطابق، پاکستان نے اسی تصور کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ کیا اور یہی وجہ ہے کہ یہ اقدام ایران کے عوام اور قیادت دونوں کے لیے بے حد قابلِ قدر ہے۔
ایرانی سفیر نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان یہ اصولی ہم آہنگی مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک نہ صرف تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں بلکہ عالمی امور پر ان کا نقطۂ نظر بھی کئی حوالوں سے یکساں ہے۔ پاکستان کا حالیہ مؤقف اسی مشترکہ سوچ کا عملی اظہار ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر رضا امیری مقدم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران، پاکستان کی اس مستقل اور اصولی حمایت کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق، تاریخ میں ایسے لمحات آتے ہیں جب ممالک کے فیصلے محض سفارتی بیانات نہیں رہتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔ پاکستان کا یہ کردار بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے جو ایران کے نزدیک احترام اور قدردانی کے ساتھ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ مستقبل میں بھی پاکستان عالمی فورمز پر حق، انصاف اور کثیرالجہتی نظام کے تحفظ کے لیے اسی طرح مضبوط آواز بلند کرتا رہے گا، اور ایران اس شراکت داری کو نہایت اہم سمجھتا ہے۔ یوں، جنیوا میں ہونے والی یہ سفارتی پیش رفت محض ایک ووٹ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے خطے اور عالمی سیاست میں اصولی مؤقف کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا۔
