عالمی سطح پر معاشی پالیسی اور مالی نظم و ضبط سے متعلق جاری مباحث کے دوران پاکستان کے حوالے سے ایک اہم اور مثبت سفارتی و اقتصادی اشارہ سامنے آیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان کی موجودہ حکومت کی معاشی سمت، اصلاحاتی اقدامات اور قیادت کے انداز کو کھلے الفاظ میں سراہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں میں پاکستان میں جو معاشی پیش رفت دیکھی جا رہی ہے، وہ محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات اور واضح نتائج کی شکل میں سامنے آ رہی ہے۔
یہ خیالات انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقد ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر اظہار کیے، جہاں دنیا بھر سے سیاسی و معاشی رہنما عالمی معیشت کے مستقبل پر تبادلہ خیال کے لیے جمع تھے۔ اس موقع پر پاکستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان ایک سنجیدہ اور سوچے سمجھے معاشی سفر پر گامزن ہے، جس کا مقصد صرف مالی استحکام نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی میں بہتری لانا بھی ہے۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کا طرزِ قیادت عملی، نتیجہ خیز اور مستقل مزاجی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف ان رہنماؤں میں شامل ہیں جو کسی بھی منصوبے یا اصلاحی ایجنڈے کو محض اعلان تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ جب وہ کسی ہدف کا تعین کر لیتے ہیں تو اس کی تکمیل تک چین سے نہیں بیٹھتے۔ ان کے نزدیک یہی وہ خصوصیت ہے جو کسی بھی مشکل معاشی صورتحال میں مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
کرسٹالینا جارجیوا نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستان کی موجودہ حکومت نے معاشی اصلاحات کو وقتی سیاسی مفادات کے بجائے طویل المدتی قومی مفاد کے تناظر میں اپنایا ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات جو ابتدا میں مشکل محسوس ہوتے ہیں، بالآخر معیشت کو پائیدار بنیادیں فراہم کرتے ہیں، اور پاکستان میں اب ان اصلاحات کے ابتدائی مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں بجٹ نظم و ضبط کو سنجیدگی سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ آمدن اور اخراجات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوششیں محض کاغذی دعوؤں تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی طور پر نظر آ رہی ہیں۔ ان کے بقول، یہ تبدیلی کسی بھی ملک کی معیشت کو استحکام کی طرف لے جانے کے لیے نہایت اہم ہوتی ہے۔
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں حکومتی وسائل کے استعمال کے انداز میں ایک نمایاں تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ ان کے مطابق اب وسائل کا رخ غیر ضروری اخراجات کے بجائے عوامی فلاح، سماجی ترقی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی جانب موڑا جا رہا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ عام شہری کو پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی اصلاحات کے اثرات آہستہ آہستہ عوامی زندگی میں جھلکنے لگے ہیں۔
کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک میں مثبت معاشی تبدیلی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب سیاسی قیادت خود اس عمل پر یقین رکھتی ہو۔ ان کے مطابق پاکستان میں موجودہ قیادت نہ صرف اصلاحات کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہے بلکہ ان کے نفاذ کے لیے سیاسی عزم بھی رکھتی ہے، جو بین الاقوامی اداروں کے لیے ایک حوصلہ افزا پہلو ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر مالیاتی ادارے کسی بھی ملک کے ساتھ تعاون کرتے وقت صرف اعداد و شمار نہیں دیکھتے بلکہ یہ بھی جانچتے ہیں کہ کیا وہاں اصلاحات کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا ارادہ موجود ہے یا نہیں۔ ان کے بقول پاکستان کے موجودہ رویے اور اقدامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت معاشی بہتری کو ایک وقتی ہدف نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
ڈیووس فورم میں گفتگو کے دوران آئی ایم ایف سربراہ نے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج عوام کو معاشی فیصلوں کے ثمرات پہنچانا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بجٹ نظم و ضبط اور اصلاحات کے ذریعے حاصل ہونے والے وسائل کو تعلیم، صحت اور روزگار جیسے شعبوں میں لگایا جائے تو اس کے مثبت اثرات دیرپا ثابت ہوتے ہیں، اور پاکستان میں اب اسی سمت میں پیش رفت دکھائی دے رہی ہے۔
کرسٹالینا جارجیوا نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اگر پاکستان اسی سنجیدگی اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی اصلاحاتی پالیسیوں پر عمل کرتا رہا تو نہ صرف معاشی استحکام ممکن ہوگا بلکہ عالمی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کا اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔ ان کے مطابق اعتماد ہی وہ عنصر ہے جو کسی بھی معیشت کو آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ موجودہ اصلاحاتی رفتار کو برقرار رکھے اور عوامی فلاح کو اپنی ترجیح بنائے۔ ان کے نزدیک وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومتی اقدامات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، اور اگر یہی روش برقرار رہی تو اس کے ثمرات نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عام شہری کی زندگی میں بھی واضح طور پر محسوس کیے جا سکیں گے۔
عالمی اقتصادی فورم جیسے معتبر پلیٹ فارم پر آئی ایم ایف کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے پاکستان کی معاشی اصلاحات کا اعتراف نہ صرف موجودہ حکومت کے لیے ایک سفارتی کامیابی ہے بلکہ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی معاشی سمت کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
