اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران پاکستان اور صومالیہ کے تعلقات میں ایک اہم اور مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے، جسے دونوں ممالک کے باہمی روابط کے لیے ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کا مرکز ایک ایسا معاہدہ بنا ہے جس کے تحت اب دونوں ممالک کے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے ویزا حاصل کرنے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کو دوطرفہ اعتماد، سفارتی سہولت اور مستقبل کے تعاون کی جانب ایک مضبوط قدم سمجھا جا رہا ہے۔
یہ معاہدہ ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران طے پایا، جس میں پاکستان کے صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور صومالیہ کے وزیرِ داخلہ علی یوسف آمنے سامنے بیٹھے۔ ملاقات نہ صرف رسمی سفارتی آداب تک محدود رہی بلکہ اس میں دونوں ممالک کے تعلقات کو وسعت دینے، تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے اور مستقبل کی سمت کا تعین کرنے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اسی ملاقات کے موقع پر سفارتی پاسپورٹس کے حامل افراد کے لیے ویزا فری سفر سے متعلق معاہدے پر باقاعدہ دستخط کیے گئے، جسے دونوں فریقین نے خوش آئند اور تاریخی قدم قرار دیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ افریقی براعظم تیزی سے عالمی سیاست، معیشت اور جغرافیائی توازن میں ایک کلیدی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس خطے کی اہمیت کو بخوبی سمجھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد افریقہ کے مختلف ممالک، بالخصوص صومالیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں افریقہ کے ساتھ قریبی روابط پاکستان کے لیے اسٹریٹجک، معاشی اور سفارتی اعتبار سے نہایت اہم ہیں۔
صدر زرداری کے مطابق صومالیہ ایک برادر اور دوست ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات احترام، خیرسگالی اور باہمی مفادات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف ان تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے بلکہ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے بھی سنجیدہ ہے۔ ان کے بقول دونوں ممالک کے درمیان تجارت، تعلیم، سیکیورٹی اور ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے جیسے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔
ملاقات کے دوران اس امر پر بھی اتفاقِ رائے پایا گیا کہ پاکستان اور صومالیہ کے درمیان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو وسعت دی جائے گی۔ دونوں فریقین نے فوجداری انصاف، سیکیورٹی سے متعلق معلومات کے تبادلے، اور ادارہ جاتی تربیت جیسے امور پر قریبی اشتراک کی ضرورت پر زور دیا۔ اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ موجودہ دور میں سرحد پار جرائم، دہشت گردی اور منظم جرائم جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔
صدارتی اعلامیے میں اس ملاقات کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صومالیہ کے وزیرِ داخلہ علی یوسف کا یہ دورہ گزشتہ پینتیس برسوں میں صومالیہ کی جانب سے پاکستان کا پہلا سرکاری دوطرفہ دورہ ہے۔ اس پہلو نے اس ملاقات اور معاہدے کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ یہ طویل وقفے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کو ازسرِنو فعال کرنے کی ایک واضح علامت ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق یہ دورہ مستقبل میں اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
صومالیہ کے وزیرِ داخلہ نے بھی ملاقات کے دوران پاکستان کی مہمان نوازی اور مثبت سفارتی رویے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ صومالیہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو محض سفارتی سطح تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوامی سطح پر بھی اس کے فوائد سامنے آئیں۔ ان کے مطابق ویزا فری معاہدہ دونوں ممالک کے سفارت کاروں اور سرکاری نمائندوں کے لیے روابط کو آسان بنائے گا، جس سے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
دونوں جانب سے اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اس معاہدے کے بعد مستقبل میں دیگر شعبوں میں بھی اسی نوعیت کے سہولت آمیز اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ دراصل ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان اور صومالیہ کے تعلقات کو ایک جامع اور طویل المدتی فریم ورک کے تحت فروغ دینا ہے۔ اس حکمتِ عملی میں سیاسی روابط کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افریقی ممالک کے ساتھ روابط بڑھانے کی پالیسی اب عملی شکل اختیار کرتی نظر آ رہی ہے۔ صومالیہ کے ساتھ ویزا فری معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نہ صرف بیانات کی حد تک بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے بھی افریقہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں پاکستان کے سفارتی دائرۂ اثر میں اضافے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
