اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے سخت الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ 8 فروری کے احتجاج کی کال کسی صورت واپس نہیں لی جائے گی۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے جاری جدوجہد دباؤ کے باوجود پیچھے نہیں ہٹے گی۔
اچکزئی نے کہا کہ یہ تحریک ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کے مزید مراحل طے کیے جا رہے ہیں۔ حالات کے پیشِ نظر جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا بھی امکان ہے، جس کے لیے حکمت عملی پر غور جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کے بنیادی حقوق اور آئین کی بالادستی کے لیے آواز بلند کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں خاموشی اختیار کرنا ممکن نہیں اور یہ احتجاج صرف آغاز ہے — آنے والے دنوں میں تحریک مزید وسعت اختیار کرے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر اپنا کردار ادا کریں۔
اپوزیشن اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ 8 فروری کو ملک گیر “پہیے جام/شٹر ڈاؤن” ہڑتال کے ساتھ احتجاج ہوگا، جس میں عوام کو پرامن طور پر سڑکوں پر نکل کر حصہ لینے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس احتجاج کا مقصد آئین کی بالادستی، جمہوریت، ووٹر مینڈیٹ کا تحفظ اور آزاد عدلیہ کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔
یہ احتجاج کال تحریک تحفظ آئین پاکستان (TTAP) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے دی ہے، جس کا رخ حکومت کی پالیسیوں اور 2024 کے عام انتخاب کے نتائج سے عوامی عدم اطمینان کی وجہ سے ہے، اور اسے ایک یومِ سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔
