پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ابراہام معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا اور بورڈ آف پیس کو اس معاہدے سے جوڑنا ایک غلط فہمی ہے۔ یہ بات دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہی، جس میں انہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عالمی امن کے لیے اقدامات کی وضاحت کی۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت نیک نیتی کے تحت اختیار کی ہے، اور اس کا مقصد صرف اور صرف غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا، فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر مبنی دیرپا امن قائم کرنا اور غزہ کی تعمیر نو میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ابراہام معاہدے یا کسی بین الاقوامی استحکام فورس کا حصہ نہیں بنے گا اور اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ بورڈ آف پیس ایک عالمی سطح پر مشترکہ کوشش ہے، جس میں پاکستان کے علاوہ سات دیگر مسلم ممالک بھی شامل ہیں، جن میں سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس کا آغاز گزشتہ برس ستمبر میں ہوا اور یہ غزہ اور فلسطین کے عوام کے لیے امید کی کرن ہے، خاص طور پر اس وقت جب دو برس سے غزہ کے عوام شدید تباہی اور انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون پلیٹ فارم ہے جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل ہے، تاکہ اسرائیلی جارحیت کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات میں انسانی مدد فراہم کی جا سکے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے پاکستان کے سفر کے حوالے سے بھی وضاحت کی اور کہا کہ پاکستان بین الاقوامی مسافروں کے لیے ایک محفوظ اور کھلا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے جاری ہونے والا تازہ سفری ہدایت نامہ کسی قسم کا ڈاؤن اسکیل نہیں بلکہ ایک اپڈیٹ ہے، جس میں کچھ سابقہ سکیورٹی نکات کو نکال دیا گیا ہے۔ اپڈیٹ کے بعد امریکی شہریوں کے لیے پاکستان کا سفر مزید آسان ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکہ اس معاملے پر سفارتی ذرائع کے ذریعے رابطے میں ہیں تاکہ دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے سفری امور میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
طاہر اندرابی نے امریکی ویزا پابندیوں کے خاتمے کے حوالے سے بھی تفصیل سے بات کی اور کہا کہ اس موضوع پر اسلام آباد اور واشنگٹن میں بات چیت جاری ہے۔ پاکستان کی توقع ہے کہ جلد ہی اسے ویزا پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا جائے گا، اور اس مقصد کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات مضبوط رہیں اور عوامی سطح پر سفری پابندیاں کم سے کم ہوں۔
بورڈ آف پیس کی اہمیت کے حوالے سے طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اس میں پاکستان کی شمولیت غزہ میں انسانی بحران اور تباہی کے تناظر میں عالمی برادری کے ساتھ تعاون کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس کا پہلا مقصد غزہ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کے قیام کو مستحکم کرنا ہے۔ دوسرا مقصد غزہ کی تعمیر نو میں معاونت فراہم کرنا ہے، تاکہ متاثرہ عوام کی زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔ تیسرا اور اہم مقصد فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر مبنی دیرپا امن قائم کرنا ہے، جو خطے میں استحکام اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ آف پیس میں شامل ممالک ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے تحت اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور پاکستان اس کا فعال حصہ ہے تاکہ عالمی سطح پر تعاون اور انسانی ہمدردی کے اقدامات کو فروغ دیا جا سکے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ بورڈ آف پیس کو ابراہام معاہدے سے جوڑنا ایک غلط فہمی ہے اور پاکستان نے کسی بھی بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس اور ابراہام معاہدہ مکمل طور پر الگ الگ فریم ورک ہیں اور پاکستان صرف بورڈ آف پیس کے مقصد کے تحت شمولیت اختیار کر رہا ہے، جس کا تعلق فلسطین اور غزہ کے انسانی اور سیاسی مسائل سے ہے۔ طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ پاکستان اس معاملے میں کسی بھی طرح کے دباؤ کو قبول نہیں کرے گا اور تمام فیصلے ملکی مفاد اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے تحت کیے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے بعد پاکستان نے مختلف اجلاسوں اور مباحثوں میں بھرپور حصہ لیا، تاکہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے نمائندے دیگر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر کوشش کر رہے ہیں کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔ بورڈ آف پیس کا مقصد صرف سیاسی بات چیت نہیں بلکہ عملی اقدامات اور انسانی ہمدردی پر مبنی اقدامات کو بھی فروغ دینا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دو برس سے غزہ کے عوام شدید تباہی اور انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، اور اقوام متحدہ کی کوششیں اسرائیلی جارحیت روکنے میں ناکام رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بورڈ آف پیس جیسے معاون پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کی گئی، تاکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں شامل ممالک نہ صرف اپنی سیاسی حمایت دے رہے ہیں بلکہ متاثرہ عوام کے لیے امدادی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں، تاکہ انسانی بحران کم کیا جا سکے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں شمولیت کے ذریعے نہ صرف غزہ میں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر انسانی ہمدردی اور تعاون کے لیے اپنا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی شمولیت ابراہام معاہدے یا کسی دیگر بین الاقوامی فورس سے نہیں جڑی، بلکہ یہ صرف غزہ اور فلسطین کے مسائل کے حل اور انسانی بحران کے خاتمے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں شامل دیگر ممالک جیسے سعودی عرب، مصر، اردن، یو اے ای، انڈونیشیا اور قطر بھی اسی مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں، اور پاکستان اس عالمی کوشش کا فعال حصہ ہے۔
اس موقع پر طاہر اندرابی نے امریکی سفری ہدایات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ امریکہ کی نئی ٹریول ایڈوائزری کسی طرح کا ڈاؤن اسکیل نہیں بلکہ اپڈیٹ ہے، جس میں کچھ سابقہ سکیورٹی نکات نکال دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اپڈیٹ کے بعد امریکی شہریوں کے لیے پاکستان کا سفر مزید آسان ہو گیا ہے، اور دونوں ممالک اس معاملے پر سفارتی ذرائع کے ذریعے رابطے میں ہیں تاکہ شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ویزا پابندیوں کو ختم کرایا جا سکے اور امریکی شہریوں کے لیے سفری سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی انسانی ہمدردی، امن اور استحکام پر مبنی ہے اور کسی بھی بین الاقوامی معاہدے میں شمولیت اس کے اصولوں اور قومی مفاد کے مطابق کی جائے گی۔
طاہر اندرابی نے یہ واضح کیا کہ پاکستان بورڈ آف پیس کے ذریعے غزہ اور فلسطین کے لیے عملی اقدامات کرنے، امن قائم کرنے اور انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے، اور اس کا ابراہام معاہدے یا کسی بین الاقوامی استحکام فورس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر تعاون اور انسانی ہمدردی کے اقدامات میں فعال حصہ لینے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں دیگر مسلم ممالک کے ساتھ بھرپور رابطے میں ہے۔
