موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات کےپیش نظرپاکستان نے عوامی انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ڈیجیٹل اسٹرکچرل ہیلتھ اسیسمنٹ (SHA) سسٹم متعارف کرا دیا ہے۔ اس پیش رفت کا اعلان 28 جنوری 2026 کو اسلام آباد میں منعقدہ اعلیٰ سطحی مشاورتی کانفرنس کیپیسٹی ڈیولپمنٹ فار کلائمیٹ ریزیلینٹ انفراسٹرکچر (CD-CRI) کے دوران کیا گیا۔
یہ کانفرنس جاپانی تنظیم کوکیو ناکی کوڈوموٹاچی (KnK Japan) کی میزبانی میں منعقد ہوئی، جس میں پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC)، نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (NDRMF)، جرمن ترقیاتی ادارہ GIZ اور ڈاکٹر قیصر علی ایسوسی ایٹس نے اشتراک کیا۔ اس موقع پر انجینئرنگ قیادت، آفات سے نمٹنے والے قومی اداروں اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں نے ایک مشترکہ وژن کے تحت خطرات سے دوچار انفراسٹرکچر کو زیادہ محفوظ اور پائیدار بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
تقریب کے میزبان KnK جاپان کے کنٹری ریپرزنٹیٹیو جاوید اقبال نے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد پاکستان میں عوامی عمارتوں کے اسٹرکچرل جائزے کو جدید، شفاف اور سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔
ڈیجیٹل SHA سسٹم کیا ہے؟
کانفرنس کے تکنیکی سیشن میں متعارف کرایا جانے والا ڈیٹا پر مبنی SHA سسٹم پاکستان بلڈنگ کوڈ 2021 اور عالمی معیار سے ہم آہنگ ہے۔ یہ نظام عوامی عمارتوں جیسے اسکولوں، اسپتالوں اور سرکاری عمارتوں کی ساختی مضبوطی کا ڈیجیٹل تجزیہ ممکن بنائے گا۔ اس کا مقصد کمزور ڈھانچوں کی بروقت نشاندہی اور شواہد پر مبنی فیصلوں کے ذریعے جان و مال کے نقصان کو کم کرنا ہے۔
یہ نظام ایک ڈیجیٹل اور جی آئی ایس سے منسلک پلیٹ فارم پر مبنی ہے، جو شفافیت، انجینئرنگ معیار کی پاسداری اور بہتر پالیسی سازی میں مدد دے گا۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں اس کے پائلٹ منصوبے بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔
پالیسی سے عمل تک ادارہ جاتی اشتراک سےتعاون بڑھےگا،تقریب میں ہونے والے پینل مباحثے میں PEC، NDRMF، اقوام متحدہ اور GIZ کے نمائندوں نے موسمیاتی خطرات کے ڈیٹا، آفات سے نمٹنے کے مالی وسائل اور جامع منصوبہ بندی کے انضمام پر زور دیا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی کو اب موسمیاتی ریزائلینس کے بغیر مکمل نہیں سمجھا جا سکتا۔
اسی موقع پر KnK Japan، PEC اور NDRMF کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط بھی کیے گئے، جس کے تحت ملک بھر میں انفراسٹرکچر کی ترقی کے عمل میں پائیداری اور مضبوطی کو باضابطہ طور پر ادارہ جاتی شکل دی جائے گی۔
چیئرمین PEC وسیم نذیر نے کہا کہ ریزائلینس پہلے ایک تصور تھا، مگر اب KnK جاپان ہمیں سرنگ کے آخر میں روشنی دکھائی دیتا ہے۔ان کے مطابق یہ اقدام نظریات کو عملی اقدامات میں بدلنے کی ایک مضبوط مثال ہے۔
GIZ کے ڈاکٹر نکولائی ڈیل مین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں پاکستان کو ایسے انفراسٹرکچر کی فوری ضرورت ہے جو سائنسی شواہد اور جدید ڈیٹا کی بنیاد پر تیار ہو۔ انہوں نے SHA سسٹم کو فیصلہ سازی میں ایک انقلابی قدم قرار دیا اور بتایا کہ یہ پاکستان کے نیشنل ایڈاپٹیشن پلان سے ہم آہنگ ہے۔
صرف ٹیکنالوجی نہیں، صلاحیت سازی بھی بڑھے گی
CD-CRI اقدام صرف ڈیجیٹل نظام تک محدود نہیں بلکہ انجینئرز کی تربیت، پیشہ ورانہ سرٹیفکیشن اور خواتین کی تکنیکی فیصلہ سازی میں شمولیت کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ جرمن وزارت BMZ کی معاونت اور GIZ کے تعاون سے یہ منصوبہ مقامی مہارت کو مضبوط بنا رہا ہے۔
ایک محفوظ مستقبل کی بنیادہے،ماہرین کے مطابق یہ اقدام اس سوچ کو عملی شکل دے رہا ہے کہ پاکستان میں ہر اسکول، اسپتال اور اہم عوامی عمارت کو موسمیاتی خطرات کے مطابق جانچا اور مضبوط بنایا جائے۔ CD-CRI مشاورت کو ایک ایسے پاکستان کی جانب پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جہاں جدت، شراکت داری اور سائنسی منصوبہ بندی پائیدار ترقی کی بنیاد بنیں۔
تقریب کے اختتام پر جاوید اقبال نے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ نچلی سطح تک مثبت اثرات مرتب کرے گا اور پاکستان کو موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنائے گا۔
