بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کا علاج مکمل، پمز انتظامیہ نے تفصیلات جاری کردیں،پاکستان تحریک انصاف کےبانی عمران خان کی دائیں آنکھ کےمعائنے اورعلاج کی سرکاری سطح پر تصدیق ہوگئی ہے۔پمزاسپتال اسلام آباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران سکندر نے علاج کی مکمل تفصیلات میڈیا کو فراہم کر دیں۔
ڈاکٹر عمران سکندر کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے چند روز قبل دائیں آنکھ کی بینائی میں کمی کی شکایت کی تھی، جس پر پمز کے ایک سینئر ماہرِ امراضِ چشم نے اڈیالہ جیل میں جا کر آنکھوں کا معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران ضروری ٹیسٹ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندر دباؤ (IOP) کی پیمائش اور ریٹینا کی او سی ٹی (OCT) کی گئی۔
طبی معائنے کے بعد عمران خان کی آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO) کی تشخیص ہوئی، جس کے پیش نظر مزید علاج کے لیے انہیں اسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی گئی۔
علاج کیسے ہوا؟اس حوالےسےپمز انتظامیہ کے مطابق ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب عمران خان کو تجویز کردہ علاج کے لیے پمز لایا گیا۔ انہیں بیماری اور طریقۂ علاج کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا اور علاج سے قبل تحریری رضا مندی حاصل کی گئی۔
ڈاکٹر عمران سکندر کا کہنا ہے کہ علاج آپریشن تھیٹر کے جراثیم سے پاک ماحول میں ماہرین کی نگرانی میں کیا گیا، جو تقریباً 20 منٹ میں کامیابی سے مکمل ہوا۔ علاج کے دوران مریض کی وائٹل علامات مستحکم رہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دائیں آنکھ کی رگوں میں دباؤ بڑھنے کی وجہ سے بینائی متاثر ہوئی تھی۔ علاج کے بعد عمران خان کو ضروری ہدایات، فالو اپ مشوروں اور طبی دستاویزات کے ساتھ ڈسچارج کر کے واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔
حکومتی اور سیاسی ردعمل میں بعدازاں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بیان دیا کہ عمران خان بالکل ٹھیک اور صحت مند ہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے طریقہ کار پر تشویش کا اظہار کیا۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو بنیادی انسانی حقوق فراہم نہیں کیے جا رہے اور انہیں ہفتے کی شام خفیہ طور پر جیل سے اسپتال منتقل کر کے آنکھ کا علاج کیا گیا۔
یوں ایک طرف سرکاری سطح پر طبی وضاحت سامنے آئی ہے، جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت علاج کے عمل میں شفافیت اور رسائی کے معاملے پر سوالات اٹھا رہی ہے۔
