راولپنڈی: بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے واضح کیا ہے کہ خاندان کا مطالبہ کسی قسم کی رعایت یا رہائی نہیں بلکہ صرف عمران خان کی شفاف اور بروقت طبی سہولت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کو جان بوجھ کر توجہ ہٹانے کے لیے لیک کیا گیا۔
اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے پی ٹی آئی سینیٹر مشال یوسفزئی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ جن ہدایات پر جھوٹ بولتی ہیں، اس میں اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہیں۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین نہیں کہ مشال یوسفزئی بانی پی ٹی آئی کی خیر خواہ ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مشال یوسفزئی اور شیر افضل مروت کو باقاعدہ طور پر علیمہ خان کو نشانہ بنانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے جیل میں واضح طور پر کہا تھا کہ “انہیں استعمال کیا جائے گا اور بعد میں کرش کر دیا جائے گا۔”
عمران خان کی صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان نے انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹ کے بارے میں انہیں گزشتہ منگل کو اڈیالہ جیل آ کر علم ہوا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ رپورٹ میڈیا تک کیسے پہنچی اور کس نے اسے لیک کیا؟ ان کا کہنا تھا کہ وہ آج بھی یہی سمجھتی ہیں کہ یہ خبر عوامی توجہ ہٹانے کے لیے جان بوجھ کر پھیلائی گئی۔
دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ جمعرات کو دھرنے کا فیصلہ سہیل آفریدی نے خود کیا تھا اور انہوں نے کسی کو کوئی ہدایات نہیں دیں۔ ان کے مطابق 8 فروری کے پروگرام سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی، تاہم اگر دباؤ نہ ڈالا گیا تو ہمارے ساتھ یہی رویہ رکھا جائے گا۔
علیمہ خان نے کہا کہ حکومتی رویہ خوف کی عکاسی کرتا ہے، اسی لیے ملاقاتوں پر پابندی کی بات کی جا رہی ہے۔ ان کا دوٹوک مؤقف تھا کہ ہمیں بانی پی ٹی آئی کی رہائی نہیں، صرف ان کی ٹریٹمنٹ چاہیے۔
