سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے بھارتی سرپرستی میں بلوچستان میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پنوں نے اس حملے کو پاکستان اور امریکی مفادات کے خلاف براہِ راست کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کا مقصد دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اور خطے میں سیاسی و معاشی عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔
بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا، جس میں اب تک 197 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ تاہم اس دوران دہشت گردی کے واقعات میں 22 سکیورٹی اہلکار اور 36 عام شہری بھی شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق، حملے میں نہ صرف عوام بلکہ بنیادی انفراسٹرکچر اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے مقامی معاشرت اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑا۔
پنوں نے مزید کہا کہ یہ حملے صرف پاکستان کے داخلی امن کے لیے خطرہ نہیں بلکہ خطے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے لیے بھی خطرناک ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کے خلاف مضبوط اقدامات کرے اور بلوچستان میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی حمایت کرے۔
بلوچستان میں جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز کے دوران، سکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں چھاپے مار کر دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے اور اسلحہ و بارود ضبط کیا۔ حکام کے مطابق آپریشن کا مقصد نہ صرف دہشت گردوں کو ختم کرنا بلکہ مقامی عوام میں خوف کی فضا ختم کرنا اور علاقے میں پائیدار امن قائم کرنا بھی ہے
