اسلام آباد: ازبکستان کے صدر عزت مآب شوکت مرزایوف دو روزہ سرکاری دورے پر جمعرات کو پاکستان کے دارالحکومت پہنچ گئے، جہاں انہیں پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نور خان ایئربیس پر پرتپاک استقبال سے نوازا۔ اس موقع پر وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی ہارون اختر خان بھی موجود تھے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بدھ کو جاری ایک بیان میں بتایا کہ صدر مرزایوف اپنی کابینہ کے وزراء اور تاجر رہنماؤں پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کریں گے اور 5 تا 6 فروری تک پاکستان میں سرکاری دورے کے دوران اہم ملاقاتیں اور مذاکرات کریں گے۔
ازبکستان وسطی ایشیا کی سب سے بڑی صارف منڈی اور دوسری بڑی معیشت ہے، اور یہ وہ پہلا وسطی ایشیائی ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان نے دو طرفہ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ اور 17 اشیا پر مشتمل ترجیحی تجارتی معاہدہ کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو عملی فروغ ملا ہے۔
فروری 2023 میں تاشقند میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں پاکستان اور ازبکستان نے دو طرفہ تجارت میں اضافے کے لیے 1 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد اشیا اور خدمات کے تبادلے کو بڑھانا تھا۔ اس سیاق میں موجودہ دورہ دونوں ملکوں کے تجارتی اور معاشی تعاون کو مزید گہرا کرنے کا اہم موقع ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق ازبک صدر اپنے دورے کے دوران پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری سے الگ سے ملاقات کریں گے، جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر جامع مذاکرات ہوں گے۔
صدر مرزایوف پاکستان-ازبکستان بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے، جہاں تاجر رہنماؤں، سرمایہ کاروں اور حکومتی نمائندوں کے ساتھ تجارتی روابط، سرمایہ کاری کے مواقع، صنعتی تعاون، ٹرانزٹ تجارت اور علاقائی شراکت جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات میں دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور تجارت، توانائی، دفاع، تعلیم، عوام سے عوام کے تبادلے اور علاقائی روابط جیسے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے لیے نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔
