پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو پابندیوں کی عالمی فہرست میں شامل کرنے کی زیرِ غور درخواست کو فوری منظور کیا جائے، تاکہ اس تنظیم کی سرگرمیوں کو عالمی سطح پر روکا جا سکے۔
یہ مطالبہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا، جہاں دہشت گردی سے عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر بحث کی جا رہی تھی۔
اپنے خطاب میں پاکستانی مندوب نے کہا کہ کابل میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد خطے میں بعض پراکسی دہشت گرد گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بیرونی سرپرستی اور غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے گروہ، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) شامل ہیں، خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ گروہ مبینہ طور پر افغان سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی فعال حمایت سے ان تنظیموں کی کارروائیاں مزید خطرناک ہو گئی ہیں۔
پاکستانی مندوب نے حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف گزشتہ ہفتے بی ایل اے نے بلوچستان میں مختلف مقامات پر دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن کے نتیجے میں 48 بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے اس صورتحال کو عالمی برادری کے لیے لمحۂ فکریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے گروہوں کے خلاف مؤثر عالمی اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت، سرحد پار محفوظ ٹھکانوں اور پراکسی نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس اور مربوط حکمت عملی اپنائے، کیونکہ دہشت گردی اب کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ عالمی امن و استحکام کا مسئلہ بن چکی ہے۔
پاکستان نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی یکجہتی ہی پائیدار امن کی ضمانت بن سکتی ہے، اور بی ایل اے جیسے گروہوں کو عالمی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنا اسی سمت ایک اہم قدم ہوگا۔
