اسلام آباد/مظفرآباد: آج ملک بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے، جس میں مظلوم کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
مظفرآباد میں صبح نو اور دس بجے کے درمیان سائرن بجا کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، جبکہ مختلف شہروں میں جلسے، مظاہرے اور انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بنائی گئیں تاکہ بھارت کو پیغام دیا جا سکے کہ اس کے ظلم اور تسلط کا خاتمہ ہوکر رہے گا۔
یہ دن 5 فروری 1931 کے سیاہ دن کی یاد دلاتا ہے، جب مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف تحریک کے دوران 21 کشمیری شہید ہوئے۔ حکیم الامت اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے اس موقع پر ہندوستان بھر میں کشمیریوں سے یکجہتی کا دن منانے کی کال دی تھی۔ تب سے کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد جاری ہے، جس میں ہزاروں کشمیری اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ آج کے دن دنیا بھر کے پاکستانی کشمیری عوام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ یہ حمایت سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی جدوجہد میں ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
افواجِ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، نیول چیف اور ائیر چیف نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور گرفتاریوں ناقابل قبول ہیں، اور بھارت کی جانب سے کشمیر کا آبادیاتی و سیاسی تشخص بدلنے کی کوششیں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے اور عالمی برادری کشمیری عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ پاکستان آزادی اور وقار کی جدوجہد میں کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
