ملک میں مالیاتی اور ٹیکس پالیسیوں سے متعلق جاری بحث کے دوران سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اسٹیٹ بینک اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ حکام نے اہم انکشافات اور وضاحتیں پیش کیں۔ اجلاس میں نہ صرف نئے کرنسی نوٹوں کے مستقبل پر روشنی ڈالی گئی بلکہ سپر ٹیکس، ٹیکس وصولی کے طریقہ کار اور عوام پر بڑھتے مالی دباؤ پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اجلاس کے دوران گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کمیٹی اراکین کو بتایا کہ ملک میں نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کے حوالے سے ابتدائی مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے نئے نوٹوں کے ڈیزائن کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد یہ معاملہ وزارت خزانہ کو بھیج دیا گیا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ جب تک وفاقی حکومت اس کی حتمی منظوری نہیں دیتی، اس وقت تک نئے نوٹوں کے اجرا کا عمل شروع نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا سے متعلق عوام میں پائی جانے والی بعض افواہوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ خاص طور پر پانچ ہزار روپے کے نوٹ کے حوالے سے انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اس نوٹ کو ختم کرنے کی کوئی تجویز اس وقت زیر غور نہیں ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کا مقصد صرف کرنسی کے ڈیزائن اور سیکیورٹی فیچرز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ٹیکس پالیسی، بالخصوص سپر ٹیکس کے نفاذ اور اس کے اثرات پر بھی شدید بحث دیکھنے میں آئی۔ سینیٹر عبدالقادر نے اس موقع پر حکومت اور ایف بی آر کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور کاروباری طبقہ پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں تین یا چار سال کا سپر ٹیکس ایک ساتھ وصول کرنا لوگوں کے لیے ممکن نہیں رہا۔
سینیٹر عبدالقادر کا کہنا تھا کہ اس طرزِ عمل سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت بالواسطہ طور پر لوگوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے ایف بی آر پر الزام لگایا کہ ٹیکس وصولی کے نام پر ٹیکس دہندگان کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ فوری ادائیگی کے دباؤ کے بجائے سپر ٹیکس کی وصولی کو دو سے تین سال کی مدت میں تقسیم کرے تاکہ عوام اور کاروباری افراد پر بوجھ کم ہو۔
اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان نے بھی سپر ٹیکس کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت پہلے ہی یہ واضح کر چکی ہے کہ سپر ٹیکس لگانا پارلیمان کا اختیار ہے، تاہم اس حقیقت کے باوجود یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس فیصلے سے عوام پر مالی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی طبقے پر بار بار ٹیکس عائد کر کے ریونیو بڑھانے کی پالیسی دیرپا یا مؤثر نہیں ہو سکتی۔
شیری رحمان کے مطابق اگر حکومت واقعی ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا چاہتی ہے تو اسے نئے ٹیکس دہندگان کو شامل کرنا ہوگا، نہ کہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے افراد پر مزید بوجھ ڈالنا۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل ایک ہی طبقے کو نشانہ بنانے سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ معیشت میں عدم اعتماد بھی پیدا ہوتا ہے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت کو سپر ٹیکس سے مجموعی طور پر 217 ارب روپے کی وصولی کی توقع ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی مرحلے پر ضرورت محسوس کی گئی تو کچھ مخصوص کیسز میں سپر ٹیکس کی ادائیگی کو اقساط میں تقسیم کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے، تاکہ ٹیکس دہندگان کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
چیئرمین ایف بی آر نے ٹیکس نیٹ میں اضافے سے متعلق ایک دلچسپ انکشاف بھی کیا۔ ان کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کو ٹیلی فون اور پیغامات کے ذریعے آگاہی مہم چلانے کے بعد ٹیکس دہندگان کی تعداد میں تقریباً 10 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل رابطوں کے ذریعے لوگوں کو ٹیکس نظام سے جوڑنے کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
اس موقع پر وزیر خزانہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس سے متعلق پیغام موصول ہوا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مہم بلا امتیاز سب کے لیے ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا مقصد صرف ٹیکس وصولی نہیں بلکہ ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں شفافیت، سہولت اور اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔
اجلاس میں شریک اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ معاشی حالات میں حکومت کو توازن کے ساتھ فیصلے کرنا ہوں گے۔ ایک جانب مالی خسارے اور ریونیو کے اہداف کا دباؤ ہے تو دوسری جانب عوام اور کاروباری طبقے کی مشکلات بھی حقیقت ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سینیٹ قائمہ کمیٹی کے اجلاس نے واضح کر دیا کہ آنے والے دنوں میں کرنسی، ٹیکس اور مالیاتی پالیسیوں پر بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا سے لے کر سپر ٹیکس کی وصولی تک، ہر فیصلہ نہ صرف معیشت بلکہ عام آدمی کی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اراکین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ تمام فیصلے مشاورت، شفافیت اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے، تاکہ معیشت کو استحکام کی راہ پر ڈالا جا سکے۔
