وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ازبکستان میں چاول اور آلو کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے پاکستان بھرپور اور مؤثر کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے پاکستان کو قدرتی وسائل سے مالا مال ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ توانائی، معدنیات اور زرعی پیداوار سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کے وسائل سے ازبکستان فائدہ اٹھا سکتا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری مزید مضبوط اور دیرپا ہو گی۔
ملکی معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ 2023 میں پاکستان کو شدید معاشی دباؤ، مالی خسارے اور مہنگائی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا تھا، تاہم حکومت نے بروقت، جرات مندانہ اور مشکل فیصلے کر کے معیشت کو درست سمت میں ڈال دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے مثبت نتائج اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح جو ایک وقت میں 30 فیصد تک پہنچ چکی تھی، اب کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے، جبکہ پالیسی ریٹ میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت نہ صرف معاشی استحکام کا ثبوت ہے بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بھی بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اب یہ قومی معیشت کا ایک مضبوط اور اہم ستون بن چکا ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق گزشتہ سال ملکی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور برآمدات کا مجموعی حجم 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی معیشت بحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ازبکستان کی قیادت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران ازبکستان میں مجموعی قومی پیداوار دوگنا ہوئی، 85 لاکھ افراد کو غربت سے نکالا گیا اور بے روزگاری کی شرح میں نمایاں کمی آئی۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان کی ترقی ایک کامیاب معاشی ماڈل کی مثال ہے، جس سے دیگر ترقی پذیر ممالک بھی سیکھ سکتے ہیں۔
وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، ازبک کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ، شفاف اور پرکشش ماحول فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور ازبک سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور تجارتی روابط کو نئی بلندیوں تک لے جایا جا سکے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعلقات میں مسلسل اضافہ نہ صرف دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ پورے خطے میں ترقی، خوشحالی اور استحکام کے نئے دروازے کھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کی بے پناہ گنجائش موجود ہے اور مستقبل میں یہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
