اسلام آباد میں ہونے والے افسوسناک دھماکے پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کو علیحدہ علیحدہ تعزیتی خطوط ارسال کیے ہیں، جن میں جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
روسی صدر نے اپنے پیغامات میں لکھا کہ مذہبی اجتماع کے دوران شہریوں کو نشانہ بنانا کھلی بربریت اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کی اس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
صدر پیوٹن نے اپنے خطوط میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کو اس ناسور کے خلاف مشترکہ کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں واقع مسجد و امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں جمعے کی نماز کے دوران دھماکہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں اب تک تقریباً 30 افراد جاں بحق جبکہ 150 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق خودکش بمبار کی شناخت کر لی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے افغانستان میں دہشت گرد کارروائیوں کی تربیت حاصل کی اور متعدد بار افغانستان کا سفر کیا تھا۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں اور بعض کارروائیوں کے پس منظر میں بیرونی عناصر کے گٹھ جوڑ کے شواہد موجود ہیں۔
اسلام آباد دھماکے کے بعد عالمی برادری کی جانب سے مذمتی بیانات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ پاکستان میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر خطے میں دہشت گردی کے خطرات اور علاقائی تعاون کی ضرورت کو اجاگر کر رہا ہے۔
