سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جیل میں صورتحال کا جائزہ لینےکےلیےمقرر کیے گئےفرینڈ آف دی کورٹ ایڈووکیٹ سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل میں ان سے تفصیلی ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات عدالتِ عظمیٰ کے واضح حکم کے تحت ہوئی، جس میں سلمان صفدر کو بانی پی ٹی آئی کی بیرک تک مکمل رسائی فراہم کرنے اور جیل میں دستیاب سہولیات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ سلمان صفدر نے بتایا کہ وہ تقریباً تین گھنٹے جیل کے اندر موجود رہے اور عدالت کے حکم کے مطابق انہیں مکمل رسائی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت تفصیلات بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتے کیونکہ عدالتی تقاضوں کے مطابق انہیں اپنی رپورٹ پہلے سپریم کورٹ میں جمع کرانی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ عمران خان کی صحت ٹھیک ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب بانی پی ٹی آئی سے وکلا کی ملاقات کے لیے دائر درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے معاملے کی حساسیت اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایڈووکیٹ سلمان صفدر کو بطور فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کیا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے میں واضح کیا گیا کہ سلمان صفدر اڈیالہ جیل جا کر عمران خان کی بیرک، سہولیات اور مجموعی صورتحال کا جائزہ لیں گے اور اس حوالے سے تحریری رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں گے۔ عدالت نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ فرینڈ آف دی کورٹ کو مکمل تعاون فراہم کرے اور کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
عدالت عظمیٰ نے کیس کی مزید سماعت پرسوں تک ملتوی کر دی ہے۔ آئندہ سماعت میں سلمان صفدر کی جمع کرائی جانے والی رپورٹ کی روشنی میں عدالت ممکنہ طور پر مزید ہدایات جاری کرے گی یا معاملے پر تفصیلی سماعت کرے گی۔
قانونی ماہرین کے مطابق فرینڈ آف دی کورٹ کا کردار عدالت کو غیر جانبدار اور آزادانہ معلومات فراہم کرنا ہوتا ہے تاکہ عدالت کسی بھی معاملے پر شفاف اور منصفانہ فیصلہ دے سکے۔ عمران خان کی جیل میں حالت اور سہولیات سے متعلق یہ پیش رفت سیاسی اور قانونی حلقوں میں خاصی اہمیت اختیار کر چکی ہے، کیونکہ اس کیس کے اثرات نہ صرف قانونی بلکہ ملکی سیاسی منظرنامے پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
اب سب کی نظریں سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت اور سلمان صفدر کی رپورٹ پر مرکوز ہیں، جو اس اہم مقدمے کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔
