بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے دیا گیا استعفیٰ تقریباً 17 ماہ بعد منظور کر لیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی نشست باضابطہ طور پر خالی قرار دے دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سردار اختر مینگل کا استعفیٰ گزشتہ رات منظور کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ استعفیٰ اسی تاریخ سے منظور تصور کیا گیا ہے جس روز انہوں نے اسے جمع کروایا تھا۔
یاد رہے کہ سردار اختر مینگل نے 3 ستمبر 2024 کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا، تاہم اس پر باضابطہ کارروائی میں تقریباً 17 ماہ لگ گئے۔ سیاسی حلقوں میں اس تاخیر پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سردار اختر مینگل جنوری 2026 تک بطور رکن قومی اسمبلی تمام مراعات اور سہولیات استعمال کرتے رہے۔ یہ پہلو بھی سیاسی بحث کا موضوع بن سکتا ہے کہ استعفیٰ زیر التوا ہونے کے باوجود مراعات کا سلسلہ جاری رہا۔
سردار اختر مینگل این اے 256 خضدار ون سے فروری 2024 کے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ اب استعفیٰ منظور ہونے کے بعد یہ نشست خالی ہو گئی ہے۔
قانون کے مطابق خالی ہونے والی نشست پر 3 ماہ کے اندر ضمنی انتخاب کرایا جا سکتا ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرے گا۔ بلوچستان کی سیاست میں اس پیش رفت کو اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ این اے 256 خضدار ون علاقائی سیاست میں خاص اثر رکھتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اختر مینگل کے استعفے کی منظوری اور نشست خالی ہونے سے بلوچستان میں سیاسی صف بندی میں تبدیلی آ سکتی ہے اور آنے والا ضمنی انتخاب اہم سیاسی معرکہ ثابت ہو سکتا ہے۔
