اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں فوج کے کردار، آئینی حدود اور صوبوں کی نمائندگی سے متعلق بیانات پر ایوان کا ماحول اس وقت کشیدہ ہو گیا جب قائد حزب اختلاف اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے اپنے حالیہ بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے الفاظ پر قائم ہیں اور انہوں نے کبھی جذباتی بات نہیں کی۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ وہ 1990 سے ایوان کا حصہ رہے ہیں اور ہمیشہ اصولی مؤقف اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے کوئی بات کی ہے تو اس پر قائم ہیں اور اسے جذباتی قرار دینا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سب کا ملک ہے اور ہر صوبے کو آبادی کے تناسب سے ریاستی اداروں اور حکمرانی میں مناسب نمائندگی ملنی چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ فوج میں کس صوبے کا کتنا حصہ ہے اور کہا کہ اس معاملے پر بات کرنا تعصب نہیں بلکہ آئینی اور جمہوری حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پشتونوں نے انگریزوں کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دیں، جبکہ کچھ عناصر انگریزوں کے ساتھ تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پشتونوں کے ساتھ اقتصادی ناانصافی ہوئی اور انہیں حق حکمرانی سے محروم رکھا گیا۔
اس دوران اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے بجائے شہدا کی بات کی جائے۔ تاہم محمود اچکزئی نے وضاحت کی کہ وہ آئین کے دائرے میں رہنے والی فوج کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان کا مؤقف جمہوریت کے اصولوں کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمہوریت کے مخالفین کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔
اچکزئی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے افغانوں کو شہریت دینے سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا پارلیمنٹ کا مقصد مارشل لا کو جائز قرار دینا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ وہ آئینی بالادستی اور جمہوری نظام کے حامی ہیں۔
دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپوزیشن لیڈر کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے یہ کہنا کہ فوج چار ضلعوں کی ہے، انتہائی افسوسناک اور غیر مناسب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر باشعور شہری جانتا ہے کہ پاکستان کی فوج پورے ملک کی نمائندہ اور قومی ادارہ ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ فوج کا تشخص قومی ہے اور اسے کسی خاص علاقے یا صوبے سے منسوب کرنا درست نہیں۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیان پر نظر ثانی کریں اور قومی اداروں کے بارے میں ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو اختیار کریں۔
قومی اسمبلی میں اس معاملے پر ہونے والی بحث نے ایک بار پھر اس سوال کو اجاگر کر دیا ہے کہ جمہوری نظام میں ریاستی اداروں کے کردار، آئینی حدود اور صوبائی نمائندگی جیسے حساس موضوعات کو کس انداز میں زیر بحث لایا جائے تاکہ قومی یکجہتی متاثر نہ ہو۔
پارلیمانی حلقوں میں اس بحث کو آئندہ دنوں مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ سیاسی مبصرین کے مطابق ایسے معاملات میں سیاسی قیادت کو محتاط اور متوازن مؤقف اپنانا ناگزیر ہے تاکہ جمہوری عمل مضبوط ہو اور قومی ہم آہنگی برقرار رہے۔
