سکیورٹی ذرائع نے اپوزیشن لیڈر کے پاک فوج سے متعلق حالیہ بیان کو انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ذرائع کے مطابق سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت اور اختلاف رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے، تاہم قانونی معاملات اور عدالتوں سے جڑے کیسز کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق عدالتیں ہی کرتی ہیں۔ فوج کسی سیاسی عمل میں فریق نہیں اور نہ ہی اس کا کردار سیاسی نوعیت کا ہے۔
ذرائع نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی فورسز، فوج، پولیس یا ایف سی کی جنگ نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس جنگ میں کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد سے مشروط ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بھی نیشنل ایکشن پلان کو کلیدی حیثیت حاصل ہے اور حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاسوں کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ حملے میں ملوث دہشت گرد کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ چاہے کسی کی سیاسی یا مذہبی سوچ کچھ بھی ہو، دہشت گردی کے خلاف ہمیں متحد ہونا ہوگا۔ قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر تقسیم ہونا دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے، اس لیے قومی یکجہتی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ذرائع نے اسمگلنگ کے خاتمے کو بھی دہشت گردی کے خلاف اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق تین سال قبل روزانہ 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل اسمگل ہوتا تھا، تاہم اب اس اسمگلنگ کا مؤثر خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقوم دہشت گردانہ سرگرمیوں میں استعمال ہوتی تھیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ گڈ گورننس ہی وہ واحد راستہ ہے جو دہشت گردی کو جڑ سے ختم کر سکتا ہے۔
لاہور میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینیئر سکیورٹی افسر نے کہا کہ “فتنہ الہندوستان” بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے اور احساسِ محرومی کے نعرے کی آڑ میں دہشت گردی کرنے والوں کو بلوچستان کے عوام اچھی طرح پہچان چکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور بیرونی و اندرونی سازشی عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں ناگزیر ہیں۔
سینیئر سکیورٹی افسر نے مزید کہا کہ کوئی بھی بیانیہ فوج اور عوام کے درمیان مضبوط رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا۔ ان کے بقول پاک فوج اور عوام کا تعلق باہمی اعتماد پر قائم ہے اور تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستان نے معرکۂ حق میں بھارت کو شکست دی، اسی عزم کے ساتھ دہشت گردوں کو بھی شکست دی جائے گی
