اسلام آباد/واشنگٹن: وزیراعظم شہباز شریف 19 فروری کو واشنگٹن میں منعقد ہونے والے ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے باضابطہ اجلاس میں شرکت کریں گے، جس کی میزبانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ اجلاس یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں منعقد ہوگا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں وزیراعظم کی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے، تاہم دورہ امریکا کی حتمی تاریخ اور وفد کے دیگر اراکین سے متعلق تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اس فورم میں نیک نیتی سے شمولیت اختیار کی ہے اور وہ اس پلیٹ فارم پر تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس اجلاس میں تنہا شریک نہیں بلکہ 8 اسلامی و عرب ممالک کی مشترکہ آواز کے طور پر موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر اب تک دو مشترکہ بیانات جاری کیے جا چکے ہیں جن میں فلسطینی عوام کے حقوق اور تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔ طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت، ترقی اور خوشحالی کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا اور ایک پائیدار حل کا حامی ہے جس کی بنیاد 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر ہو اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار ستمبر 2025 میں غزہ جنگ کے خاتمے کے منصوبے کے دوران ’بورڈ آف پیس‘ کا ذکر کیا تھا، جبکہ 22 جنوری کو ڈیووس میں اس کا باضابطہ آغاز کیا گیا تھا جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دستخط کیے تھے۔ ابتدا میں اسے غزہ میں جنگ بندی اور تعمیر نو کی نگرانی کے فورم کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، تاہم بعد میں واضح کیا گیا کہ یہ پلیٹ فارم دیگر عالمی تنازعات کے حل میں بھی کردار ادا کرے گا۔ اگرچہ اس کے مجوزہ چارٹر میں غزہ کا براہ راست ذکر شامل نہیں، امریکا کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد اقوام متحدہ کی جگہ لینا نہیں بلکہ عالمی امن کی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔
نومبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ کے لیے 2027 تک اس بورڈ کی منظوری دی تھی۔ قرارداد کے تحت بورڈ کو غزہ کی تعمیر نو کے لیے فریم ورک تیار کرنے، فنڈنگ کو منظم کرنے اور عارضی بین الاقوامی سیکیورٹی فورس بھیجنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ اسے ہر چھ ماہ بعد سلامتی کونسل کو پیش رفت رپورٹ جمع کرانا ہوگی۔ تاہم غزہ سے باہر اس کے قانونی اختیارات اور عالمی اداروں کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت تاحال مکمل طور پر واضح نہیں۔
بورڈ کی رکنیت تین سال کے لیے ہوگی، جبکہ ایک ارب ڈالر کی شراکت دینے والا ملک مستقل رکن بن سکے گا، جس پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق تقریباً 50 ممالک کو دعوت دی گئی تھی جن میں سے 35 عالمی رہنماؤں نے شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے اور پاکستان بھی ان میں شامل ہے۔ ابتدائی ایگزیکٹو ٹیم میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف، برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔
چند یورپی ممالک اور بعض روایتی امریکی اتحادی اس فورم میں شمولیت سے محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ ناروے اور سویڈن نے دعوت قبول نہیں کی جبکہ اٹلی نے عندیہ دیا ہے کہ اس فورم میں شمولیت مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ کینیڈا نے اصولی رضامندی ظاہر کی ہے تاہم تفصیلات پر بات چیت جاری ہے، جبکہ برطانیہ، جرمنی اور جاپان جیسے اہم اتحادی ممالک کی جانب سے تاحال کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان میں کہا کہ پاکستان کی شمولیت کا مقصد مستقل جنگ بندی، انسانی امداد، غزہ کی تعمیر نو اور مقررہ مدت کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرنا ہے جس کا دارالحکومت مقبوضہ بیت القدس الشریف ہو۔ پاکستانی حکام کے مطابق اس فورم میں شرکت کا بنیادی مقصد فلسطینی عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات کی حمایت کرنا ہے۔
