اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں سیاسی درجہ حرارت اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد کی جانب سے احتجاج کے اعلان کے بعد ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی گیٹ بند کر دیے گئے جبکہ عمارت کے اندر اور باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے قیدی وین اور بکتر بند گاڑیاں بھی پہنچا دی گئیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔
ریڈیو پاکستان چوک سے شاہراہ دستور تک تمام راستے مکمل بند کر دیے گئے ہیں اور پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے۔ سیکیورٹی اہلکار کسی بھی شہری حتیٰ کہ اراکین اسمبلی کو بھی پارلیمنٹ کی جانب جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔ اسی دوران پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اقبال آفریدی اور عمیر نیازی کو بھی ریڈیو پاکستان چوک پر روک دیا گیا، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
اپوزیشن اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کے مکمل علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دے گا۔ اس اعلان کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔ دوسری جانب پارلیمنٹ جانے سے روکنے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی فتح اللہ خان کی پولیس سے تکرار بھی ہوئی۔ فتح اللہ خان نے الزام عائد کیا کہ پولیس ٹیم نے ان کے گارڈ کو تھپڑ مارے، جس پر انہوں نے شدید احتجاج کیا۔
موجودہ صورتحال کے باعث ریڈ زون میں غیر یقینی کیفیت برقرار ہے جبکہ سیکیورٹی ادارے مکمل الرٹ ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، کیونکہ اپوزیشن اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نظر نہیں آتی۔
