پاکستان جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ایک اہم جائزہ مذاکرات کے قریب پہنچ رہا ہے، اسی دوران بیرونی مالی محاذ پر سفارتی اور اقتصادی کوششوں کے نتیجے میں عارضی ریلیف حاصل ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھے گئے اپنے 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کو دو ماہ کے لیے مزید برقرار رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس سے اسلام آباد کو آئی ایم ایف سے بات چیت سے قبل وقتی سہارا مل گیا ہے۔
یہ رقم دراصل 3 ارب ڈالر کے اس بڑے انتظام کا حصہ ہے جو ابو ظہبی فنڈ فار ڈیولپمنٹ کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں تین الگ الگ اقساط کی صورت میں رکھی گئی تھی۔ جب ان میں سے دو ارب ڈالر کی میعاد پوری ہونے کے قریب پہنچی تو پاکستانی حکام نے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے تیز کر دیے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حال ہی میں اماراتی قیادت سے براہِ راست رابطہ کیا، جس کے بعد اماراتی حکام نے 2 ارب ڈالر کی رقم کو 17 اپریل 2026 تک رول اوور کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
باخبر سرکاری ذرائع کے مطابق یہ رول اوور عارضی بنیادوں پر 6.5 فیصد شرح سود کے ساتھ منظور کیا گیا ہے۔ اگرچہ متعلقہ اماراتی حکام کی باضابطہ منظوری اور تحریری تصدیق کا انتظار تھا، تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا تھا کہ اصولی اتفاق ہو چکا ہے اور رسمی کارروائی جلد مکمل ہو جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت تیسرے جائزے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس جائزے کی کامیابی کی صورت میں ایک ارب ڈالر کی چوتھی قسط جاری کی جائے گی۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بیرونی مالی استحکام اور دوست ممالک کی جانب سے فراہم کردہ رقوم کا تسلسل انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا فراہم کرتا ہے۔
اس سے قبل امارات نے اسی 2 ارب ڈالر کی رقم کو صرف ایک ماہ کے لیے رول اوور کیا تھا۔ ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط 16 فروری کو جبکہ دوسری 22 فروری کو میچور ہوئی تھی، جنہیں مختصر مدت کے لیے توسیع دی گئی تھی۔ تیسری ایک ارب ڈالر کی قسط جولائی 2026 میں میچور ہوگی اور اس کے بارے میں بات چیت مقررہ وقت کے قریب کی جائے گی۔
پاکستان نے ابتدائی طور پر امارات سے درخواست کی تھی کہ 3 ارب ڈالر کی مکمل رقم کو دو سال کے لیے رول اوور کیا جائے۔ بعد ازاں، مختصر مدت کی توسیع ملنے کے بعد طویل المدتی انتظام کے لیے نئی درخواست بھی جمع کرائی گئی۔ حکام نے اماراتی قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ آئی ایم ایف جائزہ مکمل ہونے کے بعد ایک بار پھر طویل المدتی رول اوور کے لیے باضابطہ رابطہ کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں وزارت خزانہ کے حکام کے بیانات سے متعلق سوال پر کہا کہ وہ ان بیانات کی تفصیلات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ نائب وزیر اعظم اس معاملے میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اور اماراتی حکام سے قریبی رابطے میں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ رول اوور کی مدت کا تعین ڈپازٹ رکھنے والے ملک کا اختیار ہے، لیکن موجودہ توسیع مثبت تعاون کی عکاس ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ جب تک رول اوور جاری ہے، صورتحال قابو میں ہے۔ انہوں نے وزیر خزانہ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام کے تناظر میں کسی بیرونی مالی خلا کا سامنا نہیں اور بیرونی فنانسنگ کا منصوبہ واضح طور پر پیش کیا جا چکا ہے۔
دسمبر میں وزارت خزانہ نے اماراتی حکومت کو ایک خط کا مسودہ تیار کیا تھا جس میں مکمل 3 ارب ڈالر کو ایک سال کے لیے رول اوور کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ حکام کو امید تھی کہ ماضی کی طرح پیشگی منظوری مل جائے گی، تاہم اس بار ابتدا میں صرف ایک ماہ کی توسیع پر اتفاق ہوا، جس کے بعد مزید سفارتی کوششیں کی گئیں۔
گزشتہ ہفتے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں وزارت خزانہ کے حکام مکمل 3 ارب ڈالر کی توسیع کے حوالے سے واضح یقین دہانی نہ کرا سکے اور سفارتی رابطوں کی ذمہ داری وزارت خارجہ پر ڈال دی گئی۔ وزیر خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ آئی ایم ایف کو مکمل بیرونی فنانسنگ پلان فراہم کر دیا گیا ہے اور اماراتی حکام سے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ دوطرفہ انتظامات درست سمت میں جا رہے ہیں اور کسی بھی تبدیلی سے بروقت آگاہ کیا جائے گا۔
امارات کی جانب سے رکھے گئے 3 ارب ڈالر تین الگ الگ ایک ارب ڈالر کی اقساط پر مشتمل ہیں۔ ان میں سے دو اقساط جنوری میں 17 اور 23 تاریخ کو میچور ہوئیں اور ایک ماہ کے لیے رول اوور کی گئیں۔ حالیہ دو ماہ کی توسیع کے بعد یہ 2 ارب ڈالر اپریل 2026 تک برقرار رہیں گے، جبکہ تیسری قسط جولائی میں زیر غور آئے گی۔
موجودہ مالی سال کے دوران پاکستان کو تقریباً 12 ارب ڈالر کے بیرونی ڈپازٹس کے رول اوور کی ضرورت ہے۔ اس میں تقریباً 9 ارب ڈالر سعودی عرب اور چین سے شامل ہیں—تقریباً 5 ارب ڈالر سعودی عرب اور 4 ارب ڈالر چین سے—جبکہ 3 ارب ڈالر امارات کے ہیں۔
اس ضمن میں سعودی عرب پہلے ہی مثبت پیش رفت دکھا چکا ہے۔ دسمبر میں ریاض نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھے گئے اپنے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی تھی۔ یہ رقم 2021 کے ایک معاہدے کے تحت رکھی گئی تھی جس کا مقصد پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینا تھا۔
پاکستان کے لیے ان ڈپازٹس کا برقرار رہنا نہایت اہم ہے کیونکہ اس سے نہ صرف زرمبادلہ ذخائر مستحکم رہتے ہیں بلکہ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے ملک کی مالی ساکھ بھی بہتر ہوتی ہے۔ آئی ایم ایف عام طور پر پروگرام جائزوں کے دوران بیرونی فنانسنگ کے ٹھوس انتظامات کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے دوست ممالک کی حمایت پاکستان کی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
اگرچہ دو ماہ کی توسیع حکومت کی اصل خواہش سے کم ہے، تاہم یہ فوری طور پر زرمبادلہ کے کسی اچانک اخراج کو روکنے میں مددگار ہے اور آئی ایم ایف مذاکرات سے قبل استحکام فراہم کرتی ہے۔ حکام کو امید ہے کہ جائزہ مکمل ہونے اور معاشی اشاریے بہتر ہونے کے بعد طویل المدتی رول اوور کے امکانات روشن ہوں گے۔
فی الحال حکومت کی توجہ آئی ایم ایف کے تیسرے جائزے کی کامیابی اور ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کے حصول پر مرکوز ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ بیرونی فنانسنگ پلان مضبوط ہے اور دوست ممالک کے ساتھ قریبی رابطے جاری ہیں۔ امارات کی جانب سے دی گئی عارضی توسیع پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کی جاری کوششوں میں ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔
