پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے علاج سے متعلق اہم مطالبہ سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ذاتی ڈاکٹرز کی عدم موجودگی میں ان کا کوئی علاج شروع نہ کیا جائے۔
پارٹی ترجمان کے مطابق خاندان اور ذاتی معالجین کو اعتماد میں لیے بغیر بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی ناقابل قبول ہے۔ ترجمان نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا طبی معائنہ کم از کم خاندان کے ایک فرد کی موجودگی میں کیا جائے تاکہ شفافیت اور اعتماد کو یقینی بنایا جا سکے۔
پی ٹی آئی ترجمان نے سپریم کورٹ کے تحریری احکامات جاری ہونے میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری علاج یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کے مطابق صحت جیسے حساس معاملے میں کسی قسم کی تاخیر مناسب نہیں۔
پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا درست اور مکمل علاج ان کا بنیادی حق ہے اور اس میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق حکومت عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے پر رضامند ہے، تاہم اس حوالے سے تمام قانونی اور طبی تقاضے پورے کیے جائیں۔
ادھر اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ ڈی چوک جانے سے روکنے پر تحریک انصاف کے کارکنان کا کے پی ہاؤس کے باہر دھرنا جاری ہے۔
کے پی ہاؤس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی موجود ہیں، جبکہ کارکنان کی بڑی تعداد وہاں جمع ہے۔
شاہراہِ دستور، پارلیمنٹ ہاؤس اور پارلیمنٹ لاجز کے داخلی و خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔
عمران خان کی صحت اور اسپتال منتقلی کا معاملہ اب سیاسی بیانات، عدالتی کارروائی اور سیکیورٹی اقدامات کے باعث قومی سطح کی بحث بن چکا ہے۔
ایک جانب حکومت اسے انسانی اور قانونی تقاضوں کے مطابق اقدام قرار دے رہی ہے، تو دوسری جانب پی ٹی آئی شفافیت اور ذاتی معالجین کی موجودگی کو ناگزیر شرط قرار دے رہی ہے۔
آئندہ چند گھنٹے اس معاملے میں مزید پیش رفت کے حوالے سے نہایت اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔
