وفاقی دارالحکومت میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کا طبی معائنہ حکومت کے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل میں کیا، تاہم اہلخانہ انتظار کے باوجود معائنہ میں شریک نہیں ہوئے۔ دو ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے اتوار کو تقریباً دو گھنٹے میں تفصیلی چیک اپ اور ضروری ٹیسٹ کیے۔ اس معائنے میں الشفا آئی ٹرسٹ اسپتال کے ڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز اسپتال کے ڈاکٹر محمد عارف شامل تھے، جنہوں نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا معائنہ کیا اور علاج کے بعد بینائی میں واضح بہتری ریکارڈ کی گئی۔
ذرائع کے مطابق تازہ ترین میڈیکل رپورٹ میں 24 اور 25 جنوری کی رات کیے گئے آنکھ کے پروسیجر اور انجیکشن کے اثرات کی تفصیلات شامل ہیں، اور نتائج کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بینائی تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں مزید تجاویز بھی شامل ہوں گی، جن میں اسپتال منتقل کرنے یا نہ کرنے کے ماہرانہ مشورے اور آئندہ انجیکشن کے وقت کا تعین شامل ہوگا۔ اپوزیشن قیادت کو رپورٹ کے اہم نکات سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور دو رہنماؤں کو علاج میں بہتری کی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف نے اس طبی معائنے کو مسترد کر دیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ فیملی اور ذاتی معالجین کے بغیر کسی معائنے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اپوزیشن کا پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا چوتھے روز بھی جاری ہے، جس میں بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ان کے طبی معائنے کے طریقہ کار پر سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔
اس صورتحال سے قانونی اور سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے، جہاں ایک جانب حکومت میڈیکل بورڈ کے نتائج کو شفاف عمل کے طور پر پیش کر رہی ہے اور دوسری جانب پی ٹی آئی ذاتی معالجین کی موجودگی کے بغیر کسی بھی معائنے کو غیر قانونی اور ناقابل قبول قرار دے رہی ہے۔
