وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے اور آنکھ کے علاج سے متعلق جاری تنازع پر تفصیلی مؤقف پیش کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیا گیا۔ لاہور میں ہنگامی نوعیت کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت شروع دن سے پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ رابطے میں تھی اور ہر ممکن طبی سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار تھی، تاہم بعض عناصر کی جانب سے اس معاملے کو طول دے کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔
محسن نقوی کے مطابق عمران خان کی آنکھ کے علاج سے متعلق سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں پروپیگنڈا کیا گیا، حالانکہ حکومت نے واضح طور پر پی ٹی آئی کو پیشکش کی تھی کہ وہ کسی بھی معروف آئی اسپیشلسٹ کا نام دے دیں تاکہ فوری چیک اپ کا بندوبست کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ایک ہفتے کے لیے اسپتال منتقلی کی تجویز دی گئی، جس پر حکومت نے مؤقف اپنایا کہ اگر معالجین تحریری طور پر ایڈمیشن کی سفارش کریں گے تو نہ صرف ایک ہفتہ بلکہ دو ہفتے تک بھی داخل رکھا جا سکتا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو خود ڈاکٹرز کی ٹیم کی موجودگی اور علاج کے انتظامات کا جائزہ لینے کی دعوت دی گئی۔ ان کے بقول، وہ تقریباً ایک گھنٹہ انتظار کرتے رہے مگر پارٹی مشاورت کے باعث وہ نہ آسکے۔ بعد ازاں اپوزیشن لیڈرز پمز اسپتال پہنچے جہاں ڈیڑھ گھنٹے تک ڈاکٹروں سے ملاقات اور بریفنگ ہوئی۔ محسن نقوی کے مطابق اس دوران 45 منٹ تک پی ٹی آئی کے نامزد ڈاکٹرز نے فون پر بریفنگ لی اور علاج کو تسلی بخش قرار دیا، یہاں تک کہ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ خود علاج کرتے تو بھی یہی طریقہ اپناتے۔
محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ علیمہ خان نے پارٹی کے اندر اس معاملے پر ویٹو کیا اور کہا کہ اگر حکومت کی تجویز مان لی گئی تو سیاسی ایشو کمزور ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت آن بورڈ تھی مگر بعض افراد کی ہچکچاہٹ کے باعث فوری طبی چیک اپ ممکن نہ ہو سکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو آنکھ میں انجیکشن لگانے کے لیے احتیاطاً اسپتال منتقل کیا گیا اور ان کے کھانے پینے سمیت تمام سہولیات مکمل ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ کسی بھی قیدی کو علاج کی سہولت دینا ریاست کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر علاج سے متعلق اطمینان موجود تھا تو پھر سڑکوں کی بندش اور احتجاج کی سیاست کیوں کی گئی؟
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے اسلام آباد کے ریڈ زون میں بدامنی پیدا کرنے کی مبینہ کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سیکیورٹی اداروں نے صورتحال کو خوش اسلوبی سے سنبھالا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں بند سڑکوں کی بحالی کا فیصلہ آ چکا ہے اور حکومت اس پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنائے گی۔
محسن نقوی نے زور دیا کہ حکومت اس معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہتی بلکہ شفافیت کے لیے صحافیوں کو بھی سہولیات کا جائزہ لینے کی دعوت دی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل رپورٹ موصول ہو چکی ہے، تاہم بعض تفصیلات نجی نوعیت کی ہونے کے باعث عوامی سطح پر شیئر نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی معاملات کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں اور حکومت قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھے گی۔
