آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت میں حالیہ استحکام کا باقاعدہ اعتراف کرتے ہوئے اسے اصلاحاتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے، تاہم اسی دوران ملک میں غربت کی شرح میں نمایاں اضافے کے انکشاف نے معاشی منظرنامے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن Julie Kozack نے اعلان کیا کہ فنڈ کا وفد 25 فروری سے پاکستان کا دورہ کرے گا، جہاں وہ توسیعی فنڈ سہولت (E ایف ایف) پروگرام کے تحت تیسرے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے دوسرے جائزے پر حکومتِ پاکستان کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کرے گا۔
جولی کوزیک نے واضح کیا کہ ای ایف ایف پروگرام کے تحت اختیار کی گئی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو استحکام ملا ہے۔ ان کے مطابق مالی سال 2025 میں ملک نے جی ڈی پی کے 1.3 فیصد کے برابر بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا، جو پروگرام کے طے شدہ اہداف کے عین مطابق ہے۔ مزید برآں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی جبکہ 14 برس بعد پہلی مرتبہ پاکستان نے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جسے بیرونی کھاتوں کے استحکام کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم آئی ایم ایف مشن کی آمد سے قبل سامنے آنے والے اعداد و شمار نے ایک مختلف تصویر بھی پیش کی ہے۔ تازہ تخمینوں کے مطابق مالی سال 2024-25 میں ملک کی 28.8 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2018-19 میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی، مگر گزشتہ چھ برسوں کے دوران اس میں تقریباً 6.9 فیصد کا اضافہ ہوا۔ صوبائی سطح پر پنجاب اور سندھ میں غربت کے گراف میں تیز اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے سماجی و اقتصادی چیلنجز کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق غربت میں اضافے کی وجوہات میں گزشتہ برسوں کے دوران آئی ایم ایف کے تین استحکامی پروگرامز، کووڈ-19 کے اثرات، عالمی اجناس کی قیمتوں میں سپر سائیکل، بلند مہنگائی، کم شرح نمو، دو بڑے سیلاب اور گندم کی سپورٹ قیمت کے خاتمے جیسے عوامل شامل ہیں۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ میکرو اکنامک اشاریے بہتر ہوئے ہیں، مگر حقیقی چیلنج یہ ہے کہ اس استحکام کے ثمرات عام آدمی تک کیسے پہنچائے جائیں تاکہ غربت اور بے روزگاری میں کمی لائی جا سکے۔
یوں پاکستان اس وقت ایک دو رخی معاشی صورتحال سے گزر رہا ہے جہاں ایک جانب مالیاتی نظم و ضبط اور بیرونی کھاتوں میں بہتری دیکھی جا رہی ہے، تو دوسری جانب بڑھتی ہوئی غربت حکومت اور پالیسی سازوں کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بنی ہوئی ہے۔
