پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، کیونکہ او جی ڈی سی ایل نے خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت کر لیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہنگو لمشیوال فارمیشن کے بارگزئی ایکس ون کنویں سے یومیہ 10 لاکھ اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس اور یومیہ 225 بیرل خام تیل حاصل ہونے کی توقع ہے، جو ملکی توانائی کی طلب و رسد کے فرق کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
او جی ڈی سی ایل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی خط کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ کنویں میں کمپنی کی حصہ داری 65 فیصد ہے، جبکہ پی پی ایل کی حصہ داری 30 فیصد اور حکومت کی 5 فیصد ہے۔
اسی طرح سندھ کے ضلع ٹنڈو الہ یار میں بھی نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ ترجمان او جی ڈی سی ایل کے مطابق درس ویسٹ 3 کنویں سے یومیہ تقریباً 97 لاکھ مکعب فٹ گیس اور یومیہ 580 بیرل کنڈینسیٹ حاصل ہونے کی توقع ہے۔ پیدا ہونے والی گیس کو پراسس کرنے کے بعد سوئی ناردرن کے نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا، جس سے قومی گیس ترسیلی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافتیں ملکی توانائی کے شعبے میں خود کفالت کے امکانات کو بڑھا رہی ہیں اور تیل و گیس کی درآمد پر انحصار کم کرنے میں معاون ہوں گی۔ اس کے علاوہ یہ نئے ذخائر توانائی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور صنعت و صارفین دونوں کے لیے توانائی کی دستیابی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
