پاکستان کے ہوابازی شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کی ایک نمایاں مثال سامنے آئی ہے جہاں اسلام آباد کا مرکزی ہوائی اڈہ مکمل طور پر کیش لیس نظام پر منتقل ہو چکا ہے۔ اس اقدام کے تحت اب ایئرپورٹ کے احاطے میں کسی بھی قسم کی ادائیگی نقد رقم سے نہیں کی جا سکے گی۔ چاہے مسافر ایئرلائن ٹکٹ خرید رہے ہوں، پارکنگ فیس ادا کر رہے ہوں، فوڈ کورٹ سے کھانا لے رہے ہوں، ریٹیل شاپنگ کر رہے ہوں یا ڈیوٹی فری اسٹورز سے سامان خرید رہے ہوں—تمام لین دین صرف ڈیجیٹل ذرائع سے ہوگا۔ حکام اسے ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ہوابازی نظام میں بنیادی اصلاح قرار دے رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک وسیع تر حکومتی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت اہم قومی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رواں سال کے آغاز میں وفاقی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو فعال نجکاری پروگرام میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد نہ صرف کارکردگی میں بہتری لانا ہے بلکہ شفافیت اور سرمایہ کاری کے امکانات کو بھی فروغ دینا ہے۔ ماہرین کے مطابق مکمل ڈیجیٹل ادائیگی نظام اسی بڑے اصلاحاتی فریم ورک کی ایک اہم کڑی ہے۔
نئے نظام کے تحت مسافر ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز، موبائل بینکنگ ایپس، کیو آر کوڈ اسکیننگ اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ادائیگیاں کر سکتے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ادائیگی کا عمل تیز ہوگا بلکہ مالی ریکارڈ بھی زیادہ واضح اور قابلِ نگرانی بن جائے گا۔ نقد رقم کے خاتمے سے انسانی غلطیوں، تاخیر اور غیر ضروری پیچیدگیوں میں بھی کمی آئے گی۔
ایئرپورٹ کے چیف آپریٹنگ آفیسر اور ایئرپورٹ منیجر آفتاب گیلانی کے مطابق یہ تبدیلی صرف ادائیگی کے نظام تک محدود نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک جدید موبائل ایپلی کیشن بھی متعارف کرائی گئی ہے جس کے ذریعے مسافر دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنے گم شدہ سامان کی صورتحال معلوم کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول اس سہولت کا مقصد مسافروں کی پریشانی کم کرنا اور سروس کے معیار کو عالمی سطح تک پہنچانا ہے۔
انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگی اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج سے اسلام آباد ایئرپورٹ کی بین الاقوامی درجہ بندی اور ساکھ میں بہتری آئے گی۔ آج کے دور میں ہوائی اڈوں کا معیار صرف عمارتوں اور رن ویز سے نہیں بلکہ سروس کی رفتار، شفافیت اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے بھی جانچا جاتا ہے۔ مکمل کیش لیس نظام اپنانے سے ایئرپورٹ خود کو عالمی رجحانات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سینئر جوائنٹ ڈائریکٹر کمرشل ملک امجد نے اس پیش رفت کو ایئرپورٹ سروسز کی جدید کاری میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق ہوائی اڈہ ایک پیچیدہ ماحول ہوتا ہے جہاں ایئرلائنز، پارکنگ آپریٹرز، ریٹیلرز اور دیگر کاروباری ادارے بیک وقت کام کرتے ہیں۔ جب تمام مالیاتی سرگرمیاں ایک ہی ڈیجیٹل نظام کے تحت آ جائیں تو نگرانی اور شفافیت میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ اس سے ریونیو مینجمنٹ بھی زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے۔
نجکاری کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ قدم مزید اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ وزارتِ نجکاری کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ کو اس پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ ملک کے دیگر بڑے ہوائی اڈوں کی نجکاری کے عمل سے ہم آہنگ ہے۔ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے حوالے سے بھی اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں۔ اس طرح یہ تبدیلی کسی ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ ایک قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ سرمایہ کار ایسے اداروں میں دلچسپی لیتے ہیں جہاں مالیاتی نظام شفاف اور منظم ہو۔ کیش لیس ماڈل نہ صرف نقد لین دین سے جڑے خطرات کو کم کرتا ہے بلکہ ہر ٹرانزیکشن کا مکمل ریکارڈ فراہم کرتا ہے، جو آڈٹ اور نگرانی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس سے مالی بے ضابطگیوں کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔
مسافروں کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ تبدیلی سہولت کا باعث بن سکتی ہے۔ بین الاقوامی مسافروں کو اکثر مقامی کرنسی کے حصول میں دشواری پیش آتی ہے، مگر ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے وہ براہِ راست اپنے کارڈ یا موبائل ایپ سے لین دین کر سکتے ہیں۔ اس سے وقت کی بچت بھی ہوگی اور قطاروں میں کمی بھی آئے گی، خاص طور پر مصروف اوقات میں۔
سکیورٹی پہلو بھی اس فیصلے کا حصہ ہے۔ نقد رقم کے زیادہ استعمال سے چوری یا حسابی غلطیوں کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ جب تمام ادائیگیاں الیکٹرانک پلیٹ فارمز کے ذریعے ہوں تو مالیاتی نظم و ضبط مضبوط ہوتا ہے اور تنازعات کی صورت میں مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ دستیاب رہتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی ہوائی اڈے تیزی سے کانٹیکٹ لیس اور ڈیجیٹل ماڈلز کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان کی ہوابازی انتظامیہ چاہتی ہے کہ ملک کے بڑے ہوائی اڈے اس رجحان سے ہم آہنگ رہیں۔ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا مکمل کیش لیس بن جانا اسی سمت میں ایک نمایاں قدم سمجھا جا رہا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسافروں کو اس تبدیلی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے آگاہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے اور عملہ رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ اگرچہ شہری علاقوں میں ڈیجیٹل ادائیگی عام ہو چکی ہے، تاہم کچھ مسافروں کے لیے ابتدائی مرحلے میں معاونت ضروری ہو سکتی ہے۔
یہ اقدام صرف ادائیگی کے طریقہ کار کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک انتظامی اور ثقافتی تبدیلی کی علامت ہے۔ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ خود کو جدید، شفاف اور عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آنے والے وقت میں اس نظام کی کامیابی کا اندازہ مسافروں کے تجربے، آپریشنل کارکردگی اور مالی نتائج سے لگایا جائے گا، لیکن فی الحال یہ قدم پاکستان کے ہوابازی شعبے میں ڈیجیٹل انقلاب کی ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
