یورپ میں قانونی ہجرت، افرادی قوت کی نقل و حرکت اور سکیورٹی تعاون کے تناظر میں پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک جانب اٹلی نے پاکستانی ہنر مند افراد کے لیے بڑی تعداد میں ورک ویزوں کا اعلان کیا ہے تو دوسری جانب اسپین نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے رہائشی کارڈ اسکیم سے متعلق واضح رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ یہ دونوں اقدامات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اور یورپی ممالک کے درمیان منظم، قانونی اور باقاعدہ ہجرت کے نظام کو فروغ دینے کی سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
روم میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی ملاقات میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور اٹلی کے وزیر داخلہ میٹیو پیانتیڈوسی کے درمیان تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ اس ملاقات کے دوران اٹلی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ پاکستانی ہنر مند افرادی قوت کے لیے 10 ہزار 500 ورک ویزے جاری کیے جائیں گے۔ اس فیصلے کو قانونی ہجرت کے فروغ اور غیر قانونی راستوں کی حوصلہ شکنی کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام کے مطابق یہ اقدام ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد منظم اور شفاف انداز میں ہجرت کو فروغ دینا ہے تاکہ لیبر مارکیٹ کی ضروریات پوری کی جا سکیں اور انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم کی حوصلہ شکنی ہو۔ اٹلی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستانی ہنر مند افراد مختلف شعبوں میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان لیبر تعاون کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
ملاقات کے دوران منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں وزراء نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کے نتیجے میں غیر قانونی ہجرت کی روک تھام میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ کارروائیوں کو اس تعاون کا اہم ستون قرار دیا گیا۔
محسن نقوی نے اپنے اطالوی ہم منصب کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے ہوائی اڈوں اور سمندری حدود پر نگرانی کے نظام کو مزید سخت اور مؤثر بنایا ہے، جس کے نتیجے میں غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوششوں میں واضح کمی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مربوط حکمت عملی اور جدید نگرانی کے طریقوں کے ذریعے انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اطالوی وزیر داخلہ نے پاکستان کی ان کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی ہجرت، انسانی اسمگلنگ اور منشیات کی ترسیل کے خلاف پاکستانی اداروں کی کارکردگی قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو اس تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔
اسی ملاقات کے دوران ایک اور اہم پیش رفت یہ سامنے آئی کہ پاکستانی سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو اٹلی کے ویزا سے استثنا دیا جائے گا۔ اس فیصلے کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور سفارتی تعلقات میں مضبوطی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے سرکاری سطح پر روابط میں آسانی پیدا ہوگی۔
ادھر اسپین میں بھی بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے رہائشی کارڈ سے متعلق اہم وضاحت سامنے آئی۔ اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد اسپین کی حکومت نے اعلان کیا کہ اہل پاکستانیوں کو ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے رہائشی کارڈ جاری کیا جائے گا۔ اس اسکیم کا مقصد قانونی طور پر رہائش فراہم کرنا ہے، نہ کہ سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو سہولت دینا۔
اسپین میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر ظہور احمد نے اس اسکیم کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ درخواست دہندگان کو مقررہ دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی، جن میں کردار کا سرٹیفکیٹ بھی شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پالیسی ان افراد کے لیے نہیں ہے جو سیاسی پناہ کی بنیاد پر درخواست دینا چاہتے ہیں۔
حکام کے مطابق اگر کوئی فرد سات سے آٹھ برس تک قانونی طور پر قیام مکمل کر لیتا ہے تو اسے مستقل رہائش اور بعد ازاں شہریت کے حصول کا راستہ میسر آ سکتا ہے، تاہم یہ تمام مراحل اسپین کے قوانین کے مطابق طے ہوں گے۔ اس مرحلہ وار طریقہ کار کا مقصد قانونی تقاضوں کی تکمیل اور سماجی انضمام کو یقینی بنانا ہے۔
پاکستانی حکام نے دستاویزات کی تصدیق کے عمل کو آسان بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا کہ متعدد کردار سرٹیفکیٹس کے بجائے صرف ایک قومی کردار سرٹیفکیٹ قابلِ قبول ہوگا، جو نیشنل پولیس بیورو جاری کرے گا۔ اس اقدام سے درخواست دہندگان کو غیر ضروری پیچیدگیوں سے بچایا جا سکے گا اور عمل کو تیز تر بنایا جا سکے گا۔
مزید برآں، تصدیقی عمل کو تیز کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنایا گیا ہے تاکہ درخواست دہندگان کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ محسن نقوی نے یقین دہانی کرائی کہ ہر مرحلے پر درخواست گزاروں کو مکمل معاونت فراہم کی جائے گی۔
اٹلی اور اسپین کے حالیہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اب غیر رسمی اور غیر قانونی راستوں کے بجائے قانونی اور باقاعدہ ہجرت کو ترجیح دے رہا ہے۔ اس حکمت عملی کے ذریعے ایک طرف پاکستانی شہریوں کو محفوظ اور قانونی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔
اٹلی کی جانب سے 10 ہزار 500 ورک ویزوں کا اعلان پاکستانی ہنر مند افراد کے لیے ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے، جبکہ اسپین کی رہائشی کارڈ اسکیم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک منظم اور واضح راستہ فراہم کرتی ہے۔ دونوں اقدامات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ باہمی اعتماد اور تعاون کے ذریعے ہجرت کو قانونی، محفوظ اور منظم بنایا جا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان اور یورپی ممالک کے درمیان تعلقات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ معاشی، سکیورٹی اور انسانی روابط کے دائرے میں بھی وسعت اختیار کر رہے ہیں۔ قانونی ہجرت کے فروغ، سکیورٹی تعاون کی مضبوطی اور دستاویزی عمل کی آسانی جیسے اقدامات مستقبل میں مزید مثبت نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
