کراچی کی حالیہ سیاسی کشیدگی اور گورننس سے متعلق بڑھتے ہوئے سوالات کے درمیان وفاق اور صوبہ سندھ کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں نے نئی اہمیت اختیار کر لی ہے۔ اسی تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے درمیان ایک اہم ملاقات اسلام آباد میں ہوئی، جس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، سیاسی صورتحال اور اتحادی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی جیسے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب کراچی میں گل پلازہ سانحے کے بعد شہری انتظامیہ اور انفراسٹرکچر کی صورتحال پر سخت تنقید سامنے آ رہی ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں 80 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جس کے بعد شہر کے انتظامی ڈھانچے، بلدیاتی کارکردگی اور طویل عرصے سے اقتدار میں موجود سیاسی قیادت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں وفاقی حکومت کے دو اتحادی، پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، ایک دوسرے کے مدِ مقابل آ چکے ہیں۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ بتایا گیا کہ بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ، شہری سہولیات اور عوامی بہبود سے متعلق مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، تاہم ان کی بروقت تکمیل کے لیے وفاقی تعاون ناگزیر ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت صوبہ سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔
وزیراعظم نے متعلقہ وفاقی وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی حکومت کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی فلاح کے منصوبوں میں تاخیر نہ صرف عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہے بلکہ قومی ترقی کی رفتار کو بھی سست کر دیتی ہے، اس لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی انتہائی ضروری ہے۔
شہباز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی کو وفاقی حکومت کا ایک اہم اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کے لیے اتحادی جماعتوں کے درمیان مشاورت اور باہمی احترام بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوری نظام کی مضبوطی اسی وقت ممکن ہے جب وفاق اور صوبے مل کر عوامی مسائل کے حل کے لیے کام کریں۔
دوسری جانب کراچی کی آئینی اور انتظامی حیثیت پر جاری بحث نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو ملک کا ’’مالیاتی دارالحکومت‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے وفاق کے زیر انتظام علاقہ بنایا جائے۔ ان کے اس بیان نے پیپلز پارٹی کے حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کیا، کیونکہ سندھ حکومت اس مؤقف کو صوبائی خودمختاری کے منافی سمجھتی ہے۔
اسی تناظر میں سندھ اسمبلی نے حالیہ دنوں ایک قرارداد منظور کی، جس میں واضح کیا گیا کہ کراچی سندھ کا لازمی اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے اور اس کی آئینی حیثیت میں کسی تبدیلی کی گنجائش نہیں۔ یہ قرارداد اس وقت سامنے آئی جب شہر کی دیواروں پر ایسے نعرے درج کیے گئے جن میں کراچی کو وفاق یا حتیٰ کہ فوجی انتظام کے تحت لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان نعروں نے شہری سطح پر تشویش کو مزید بڑھا دیا۔
ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ اسمبلی کی قرارداد پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے آئین کے منافی اور قومی یکجہتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کراچی کی انتظامی ساخت اور شہری مسائل پر کھلے مباحثے کی ضرورت ہے، نہ کہ یکطرفہ قراردادوں کی۔ اس کشمکش نے اتحادی سیاست میں تناؤ کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
اسی دوران گورنر ہاؤس میں منعقد ہونے والی ایک نشست بھی تنازع کا باعث بنی، جہاں بعض قوم پرست رہنماؤں نے گورنر کامران ٹیسوری پر الزام عائد کیا کہ وہ سرکاری عمارت کو لسانی سیاست کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ان الزامات نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا اور وفاقی و صوبائی قیادت کے درمیان اعتماد کے سوالات کو جنم دیا۔
آج صورتحال مزید اس وقت پیچیدہ ہوئی جب صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے گورنر ہاؤس اور بعض وفاقی وزراء پر صوبائی حکومت کے خلاف سازش کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو چاہیے کہ وہ وفاقی حکومت سے ان معاملات پر وضاحت طلب کرے۔ ان بیانات نے اتحادی حکومت کے اندر موجود اختلافات کو کھل کر سامنے لا دیا ہے۔
اس تمام سیاسی ہلچل کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات کو مذاکرات اور باہمی مشاورت سے حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت معاشی اور سکیورٹی چیلنجز سے گزر رہا ہے، لہٰذا سیاسی استحکام کو ہر صورت برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاق اور سندھ کے درمیان مضبوط رابطہ کاری نہ صرف جمہوری ڈھانچے کو مستحکم کرے گی بلکہ عوامی مسائل کے حل میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ اور احسن اقبال، اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ بھی موجود تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض رسمی ملاقات نہیں بلکہ ایک جامع سیاسی و انتظامی مشاورت تھی، جس میں ترقیاتی منصوبوں سے لے کر اتحادی سیاست تک مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔
کراچی میں پیش آنے والے سانحے نے جہاں انتظامی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں، وہیں اس نے وفاق اور صوبے کے تعلقات اور اتحادی سیاست کے توازن کو بھی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے مکمل وفاقی تعاون کی یقین دہانی ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، مگر اصل چیلنج یہ ہے کہ سیاسی اختلافات کو کم کر کے ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے۔
