پاکستان اس وقت ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے، کیونکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات جاری ہیں جو ملکی معیشت کی سمت کا تعین کریں گے۔ اس حوالے سے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی ایک نمائندہ ٹیم پاکستان میں پہنچ گئی ہے اور کراچی میں اپنے اجلاس کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مشن آئیوا پیٹرووا کی قیادت میں کام کر رہا ہے اور 11 مارچ تک ملک میں موجود رہے گا تاکہ دو اہم جائزے مکمل کیے جا سکیں۔
یہ مذاکرات IMF کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) کے تحت تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے تحت دوسرے جائزے کا حصہ ہیں۔ ان جائزوں کے نتائج کا ملک کی معیشت پر براہِ راست اثر پڑے گا، کیونکہ اگر جائزے کامیابی سے مکمل ہو جاتے ہیں تو پاکستان کو اپریل کے آخر تک تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مالی امداد موصول ہونے کی توقع ہے، جس میں سے 1 ارب ڈالر EFF کے تحت اور 200 ملین ڈالر RSF کے تحت دیے جائیں گے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان نے جائزے کی تیاری مکمل کر لی ہے اور مذاکرات میں اعتماد کے ساتھ حصہ لے رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ابھی نتائج کا کوئی اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد میں IMF کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت بامعنی اور مفصل ہوگی، جس میں ملکی اقتصادی کارکردگی اور اصلاحات کا جائزہ لیا جائے گا۔
جائزے میں نہ صرف مالیاتی اور کارکردگی کے اہداف کا جائزہ لیا جائے گا بلکہ پروگرام کی طویل مدتی پائیداری اور اصلاحات کی رفتار پر بھی توجہ دی جائے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، توانائی کے شعبے میں سرکولر قرضہ جات کی صورتحال ایک اہم نقطہ ہوگا، کیونکہ یہ سالوں سے مالی دباؤ کا سبب بنا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ بجلی کے نرخوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور اس کے عوامی و مالی اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
مزید برآں، IMF اس بات پر بھی نظر رکھے گا کہ گورننس اور بدعنوانی سے متعلق تیار کردہ رپورٹ میں دی گئی سفارشات کس حد تک عملی جامہ پہن چکی ہیں۔ نیشنل فِسکل پیکٹ، جس کا مقصد وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی تعاون کو بہتر بنانا ہے، بھی جائزے کے دوران زیرِ غور آئے گا۔ FY2026-27 کے وفاقی بجٹ کے فریم ورک کا تجزیہ بھی پروگرام کے اہداف کے مطابق کیا جائے گا۔
گذشتہ بیانات میں IMF نے پاکستان کی پالیسی اقدامات کو سراہا ہے اور کہا کہ یہ اقدامات معیشت کو مستحکم کرنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ مالیاتی استحکام کے حصول اور اصلاحات کی رفتار کو عالمی ادارے نے مثبت انداز میں دیکھا ہے۔
IMF کے جائزے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں میں دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تعاون کی بھی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس سلسلے میں، ورلڈ بینک کے پاکستان کے ملکیتی ڈائریکٹر بولورما آمگاابازار نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی تاکہ ملک میں بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کے تحت جاری تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اس ملاقات میں آبادی اور انسانی سرمایہ کاری، ماحولیاتی تحفظ، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں اصلاحات، اور جاری منصوبوں کی کارکردگی پر بات ہوئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ CPF کے تحت منصوبوں کی بروقت اور مؤثر عمل درآمد نہایت اہم ہے، خاص طور پر ماحولیاتی تحفظ اور آبادی کے انتظام جیسے طویل مدتی ترقیاتی اہداف کے لیے۔
دونوں فریقین نے منصوبوں کی شفافیت بڑھانے، نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کے طریقے بھی زیرِ بحث لائے تاکہ منصوبے مقصودہ نتائج فراہم کریں۔ ورلڈ بینک نے پاکستان کے وفاقی اور صوبائی حکام کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔
یہ تمام اقدامات اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ پاکستان کی اقتصادی حکمت عملی اب مالی استحکام، اصلاحات اور بین الاقوامی تعاون کو یکجا کر رہی ہے۔ IMF کے جائزے کے نتائج مالی امداد کے حصول کے لیے نہایت اہم ہیں، جبکہ World Bank کے ساتھ رابطے ملک کی ترقیاتی اور اصلاحاتی پالیسیوں کو تقویت دیتے ہیں۔
وزیر خزانہ اورنگزیب نے واضح کیا کہ یہ جائزے صرف مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ ملک کی معاشی اعتبار اور اصلاحات کی رفتار کو مضبوط بنانے کا موقع بھی ہیں۔ اگر جائزے کامیابی سے مکمل ہوتے ہیں اور متوقع رقم جاری ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف ملکی ذخائر کو مستحکم کرے گی بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھائے گی اور مالیاتی دباؤ میں کمی آئے گی۔
تاہم، اصلاحات کی تسلسل اور طویل مدتی استحکام کے لیے توانائی کے شعبے میں اصلاحات، عوامی مالی نظم و نسق اور وفاق و صوبوں کے درمیان مالی تعاون پر مستقل توجہ ضروری ہے۔ کراچی میں اور اسلام آباد میں جاری مذاکرات یہ واضح کریں گے کہ پاکستان اپنی اصلاحاتی حکمت عملی کو مؤثر طریقے سے عملی جامہ پہنا سکتا ہے یا نہیں، اور ملک کی اقتصادی بحالی کے راستے میں یہ کس حد تک مددگار ثابت ہوگی۔
